شیموگہ:اُتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جئے کہتے ہوئے حمایت میں اولین صف میں کھڑے ہونے والی ہندو حمایتی تنظیموں نے آج شہر کے گوپی سرکل میںبی جے پی لیڈروں کی مخالفت میں ہی نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دیئے ہیں۔ اُترکنڑ ضلع کے سولیا تعلقے بیلارے میں قتل ہونے والے بی جے پی کے نوجوان لیڈر پروین نیٹارو کے قتل کی مذمت میں ہندو تنظیم کے کارکنوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ احتجاجی نشست کے اختتام پر جب ضلع ڈپٹی کمشنرکو عرضی پیش کی جارہی تھی تو کچھ نوجوانوں نے برہمی کا اظہار کیا اور یوگی کی جئے کے نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ کرناٹک میں یوگی حکومت کے ماڈل پر قانون لایا جائےاورہندو کارکنوں کی لاشوں پر سرکار نہ چلانے کے نعرے لگائے۔ اس دوران بی جے پی لیڈر چنبسپا جنہوں نے نوجوانوں کو تسلی دینے کی کوشش کی تو انہیں کچھ نوجوانوں نے آڑے ہاتھوں لیااور کہا کہ ہمیں لیکچر دینےکی بجائے قاتلوں کو گرفتار کریں،ان کاانکائونٹر کرنے کی مانگ کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ پولیس کی لاٹھی صرف ہندو سماج کیلئے ہے؟۔ پھر آپ اس وقت کہاں گئے تھے۔مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود ہندو کارکنوں کو تحفظ نہیں مل رہا ہے۔ اس صورتحال میں قائدین تقریریں کرکے وقت گزار رہے ہیں۔ہمیں لیڈر کی تقریر وںکی ضرورت نہیں ہےبلکہ ہندو نوجوان کو قتل کرنے والے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔
