شیموگہ:اقلیتی طبقے کیلئے دستیاب اسکالرشپ ، خودروزگار کے مواقع،اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام سمیت متعدد منصوبے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تشہیر کریںاور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اقلیتی طلباء کو ان سب کا زیادہ سےزیادہ فائدہ پہنچایا جائے۔ ان باتوں کا اظہار ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر آر سیلوامنی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے۔انہوں نے آج ضلع انتظامیہ دفتر میں منعقدہ محکمہ بہبودی اقلیتی کیلئے وزیر اعظم کے نئے 15 نکاتی پروگرام کےمتعلق ہورہی ضلعی سطح کی سہ ماہی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم اور اقلیتی محکموں کو ہم آہنگی کے ذریعہ اقلیتی زمرے میں شامل مسلم طلباءکیلئے دستیاب مختلف قسم کی اسکالرشپ کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں اقدمات اٹھائیں اوراس جانب بیداری پیدا کرنےکی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ اورڈسٹرکٹ انڈسٹریل سنٹر اور دیگر محکموں کیلئے دستیاب مہارت کی ترقی ، کاروباری تربیت اور خود روزگارقائم کرنے کیلئے ضروری قرضوں کی سہولیات کے منصوبوں کے بارے میں بھی مزید تشہیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس باقاعدگی سے مولانا اورعلمائے اکرام کےرابطے میں رہتے ہیں ۔ مولوی اورعلمائے اکرام کے ذریعے اقلیتی برادری کو ان سہولیات کے بارے میں آگاہ کروانے کا مشورہ دیا۔ مزید انہوں نے بتایا کہ جن اقلیتی بچوں نے اسکول چھوڑ دیا ہے ان کی شناخت کرکے حکام اور نامزد افراد کے ذریعہ بچوں کو باقاعدگی سے دوبارہ اسکول آنے کیلئے کارروائی کرنا چاہئے۔ محکمہ ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کے جامع پروگرام کے تحت آنگن واڑی بچوںکو مناسب طور پر تغذیہ بخش غذافراہم نہیں ہورہی ہے۔ اس بارے میں رکن منصور میران نے نشست میں توجہ دلائی۔ ضلع ڈپٹی کمشنرنے ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹریوں کو مشورہ دیا کہ اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ پیش کریں۔ اس موقع پرضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری میلکارجن ،ضلع پنچایت کے پلاننگ ڈائریکٹر نندینی ، کمیٹی نے ممبران منصور، میران ، امجد خان اور ضلعی سطح کے افسران موجودتھے۔
