مسلمانوں کی تباہی کا راز 

مضامین
از:۔فاطمہ بی بنتِ مجاہد پاشاہ,7259772078
مسلمانوں کی موجودہ صورت حال بیحد افسوس ناک اور ناقابل تحریر ہے ۔ ہرجگہ مسلمان ظلم وزیادتی، خوف و دہشت، قتل وفساد، جبروتشدداورذلت وپستی کے شکار ہیں۔ کہیں پر داڑھی رکھنے پر پابندی، کہیں پراذان پر پابندی، کہیں پر تعمیرمسجدومدرسہ پر پابندی، کہیں پر حجاب پر پابندی، کہیں پر اسلامی ادارہ پر پابندی ،کہیں پر اسلامی فنکشن پر پابندی تو کہیں پر اسلامی قانون و اسلامی شعائر پر پابندی پائی جاتی ہے گویا ہم اپنی پستی کی وجہ سے چہار دانگ عالم میں مظلوم ومقہور ہیں ۔ان حالات سے نمٹنے کیلئے مسلمانوں کی طرف سے کوئی عالمی اقدام نہیں ۔ یہ سب سے حیرت ناک ہے ۔
آج سے چند سالوں پہلے ہماری اپنی الگ پہچان، اپنا الگ رعب ودبدبہ، اپنی الگ شان وشوکت ، اپنی الگ بے مثال زندگی اور اپنا الگ خاص اسلامی طرہ امتیاز تھا۔کس قدر روشن اور تابناک تھا ہمارا ماضی ؟ کس قدر عروج پر ہم تھے؟ کیا ہی شان وشوکت تھی؟ کیا عظمت وسطوت تھی ؟ سب چلی گئی ۔اب چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا، پستی ہی پستی، ناکامی ہی ناکامی ، افسوس ہی افسوس، فریاد ہی فریاد۔
آخر کیا وجہ ہے کہ آج ذلت وپستی کے اس عمیق غار میں گرپڑے ہیں؟ وہ کون سے اسباب وعوامل ہیں جن کی وجہ یہ سب دیکھنا پڑرہاہے .
حجاب کا مسئلہ کچھ اسطرح ہوا کہ عدالت کے پاس جاکر پوچھا گیا ہو ہمیں حجاب ڈالنا چاہیے یا نہیں . حجاب کے مسئلہ پر ان لوگوں نے فیصلہ سنایا جن کو دوپاٹّا ڈالنے اور حجاب کے بیچ فرق نہیں معلوم .
ان لوگوں کو نہ صرف حجاب سے دقّت ہے بلکہ مسلمانوں کے داڑھی سے بھی دقّت ہے . جون میں اترپردیش کے غازی آباد شہر میں عبدالصمد نامی بزرگ پر حملہ کیا گیا جس میں غیر مسلم لڑکوں نے انکی داڑھی کاٹ کر موب لانچنگ کیا گیا . اب کیا ہمیں ہمارے نبیﷺ سنتوں پر چلنا بھی معاشرہ کو قابلِ قبول نہیں . مسلمانوں کا جینا اتنا دشوار ہوگیا ہے . ایشوارپّا کے نظر میں مسلمان تو غنڈے ہیں . ہرشا کے قتل کے نام پر فسادات کروائے وہ اور ہم غنڈے کہلائے۔
کچھ دن پہلے مسلمانوں کے کئی گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلائے گئے . اب مسلمانوں کو سیاست کی وجہ سے ایسے وقت میں جی رہے جہاں ہم اپنے ٹھکانوں کو بچا نہیں پارہے . مسلم لیڈران اور ہماری قوم کیا ابھی بھی سورہی ہے؟
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يُوشِكُ الأممُ أن تداعَى عليكم كما تداعَى الأكَلةُ إلى قصعتِها . فقال قائلٌ : ومن قلَّةٍ نحن يومئذٍ ؟ قال : بل أنتم يومئذٍ كثيرٌ ، ولكنَّكم غُثاءٌ كغُثاءُ السَّيلِ ، ولينزِعنَّ اللهُ من صدورِ عدوِّكم المهابةَ منكم ، وليقذِفَنَّ اللهُ في قلوبِكم الوهْنَ . فقال قائلٌ : يا رسولَ اللهِ ! وما الوهْنُ ؟ قال : حُبُّ الدُّنيا وكراهيةُ الموتِ(صحيح أبي داود:4297)
ترجمہ: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا:کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہوگے،لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوگے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میںوہن ڈال دیگا، تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول ! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈرہے ۔
ایک ہی گھر میں رہا کرتے تھے دونوں بھائی
کیوں کھڑی ہو گئی دیوار چلو دیکھیں گے
در و دیوار عمارت کے تو فولادی تھے
ہو گئی کیسے وہ مسمار چلو دیکھیں گے
اس کی گفتاری میں شامل ہے صداقت کی مہک
کون ہے صاحب کردار چلو دیکھیں گے
پیٹھ پہ وار نہیں کرتا سپاہی کوئی
کون ہے فوج کا سالار چلو دیکھیں گے
جس کی عظمت کا بیاں تم نے سنا ہے اے عزیزؔ
اپنی آنکھوں سے وہ دربار چلو دیکھیں گے
  عزیزخاں عزیز