از:۔ثریا بیگم۔اردولکچرر۔سر ایم وی آرٹس اینڈ کامر س کالج، بھدراوتی۔

اٹھائو مدرسہ و خانقا سے نبناک
نہ زندگی نہ موت نہ معرفت نہ نگاہ
شاعر مشرق امام الغزل شیخ محمد اقبالؔ کا نام چوٹی کے شعراء میں شمار کیا جاتا ہے۔آپ فکروخیال فلسفہ وفن کے میدان میں بلند مقام پر فائز ہیں، دنیا میں مرد مومن کے مقام و مرتبہ اور انسانی زندگی کے سلسلہ میں انکی آراء پختہ اور نظر بڑی گہری ہے۔
کون کہتا ہے مکتب کا جوان زندا ہے
مردہ ہے مانگ کے لا یا ہے فرنگی سے نفس
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تاریک قرآن ہو کر
آپ کے کلام کا یہی وہ کرشمہ ہے جو ہر پڑھنے اور سننے والے کے دل میں اتر جاتا ہے، عالم اسلام مع امت مسلمہ کے سلسلہ میں آپ کے افکار و تخیلات بڑے قیمتی اور عظیم الشان اہمیت کے حامل ہیں۔
علامہ اقبال کے مطالعہ کی گہرائی بلند ووسیع فکر بلا کی ذہانت آپکے زندگی کے عناصر تھےجسےانہوں نے مشرق و مغرب کے مختلف حلقوں اور معاشرہ میں رہ کر گزرای تھی اور قدیم اور جدید فلسفہ و تمدن اور مختلف اقوام وملل کے رجحانات پر تحقیق کیا تھا۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پرنہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
وہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرا مت
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
امام الغزل نے پسماندہ اور بچھڑی ہوئی امتوں کے زوال و ادبار کو دیکھا’ان میں وہ قوم بھی تھی جس کی عہد رفتہ میں تاباں ودرخشاں تاریخ تھی اور جن کا ستارہ بام عروج پر تھا۔
قوم مذ ہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جزب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
علامہ اقبالؔ نے زمیں اور اس کی پستیوں پر نگاہ ڈالی تو آفاق میں گم ہو کر مردمومن کے مقام کی تلاش و جستجو کو بالا آخر انہیں نظر آیا کہ مرد مومن کا مقام اس وسیع کائناتمیںبہت بلندوہ بالاہے۔اس زمیں کی پستیوں میں اس کا مقام نہپیں ہے۔آپکے نزدیک مرد مومن کو رنگ ونسل اور قوم ووطن کے حدود میں بند نہیں کیا جاسکتا۔ انکی نظر میں ایک مومن کی پہچان یہ ہے کہ آفاق اس میں گم ہو اور زماں و مکان کی حدود سے متجاوز ہو۔
عقابی روح جب بیدار ہو تی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
توشاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اس کی زمیں بے حدود اسکا افق بے شغور کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک غیور مومن کی بلند ہمتی ان چندکلیوں پر راضی نہیں ہو گی اسلئے وہ مرد مومن سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’’جہاں ہے تیرے لئے تو نہیں جہاں کیلئے‘‘
کبھی وہ اس کی عقابی سے تشبیہ دیتے ہیں تو کبھی شاہیں سے ۔ جیسے
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹا نوں میں
اقبال کو بس اس بات پر بے حد افسوس ہے وہ اسے پسند نہیں کرتے کہ مرد مومن کی جو نگاہ انہیں میدانوں سمٹ کر رہ جائے جن میں آج کا انسان محدود ہے وہ ہر دم اسے پر دم اور بیدرہمت دیکھنا چاہتے ہیں۔ان کی نگاہ متجسس میںمومن وہ ہے جو ہر میدان میں پیش پیش اور ہر دم رواں پیہم دواں ہو۔
علامہ اقبالؔ کو اس بات پر بے حد افسوس ہے کہ آج مرد مومن پستی کی اس حد جا پہنچا ہے جو کبھی بھی اس کا وہام گمان تک نہیں تھا۔ کیونکہ مرد مومن امر ہے ۔وہ اپنے پاس ایک زندہ جاوید پیغام رکھتا ہے۔اسکے سینے میں ایک زندہ جاوید امانت ہے اور اس کی زندگی ایک زندہ جاوید مقصد کیلئے بسر ہو تی ہے۔اس لئے رب نےاس کا انتخاب اپنے پیغام کیلئے کیا ہے۔
تمنادرد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کے واسطے یہ پیغام ایک ہمہ گیر ہدایت ’ اخلاقی تربیت اور امت کی نمائندگی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اسلئے خالق کائنات نے مرد مومن کو انسانیت کا امام اور اس روئے زمیں کا خلیفہ مقرر کیا ہے۔
آئین جواں مردیں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
وہ اہل زمیں کیلئے رافت ورحمت کا اور امن و سلامتی کا معلم ہے اور ان کو اصل خطرے سے آگاہ کرنے والا ہے جس میں بیک وقت دنیا اور انسانیت دونوں کی ہلاکت و فلاکت ہے۔
اقبال ؔکہتے ہیں کہ مرد مومن پوری کائنات پر حاوی ہوتا ہے وہ لالہ و گل کی سرحدوں کا پابند نہیں ہو تا۔وہ صدق و صفا کا علمبردار ہوتا ہے اسے مال و دولت اور جاہ و منصب اپنے دام فریب میں گرفتار نہیں کرسکتے اسے اس پر فریب دنیا کے اسباب آرائش و زبیائش اپنی طرف کھینچ نہیں سکتے۔ ایک مرد مومن کو اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے کوئی چیزغافل نہیں کر سکتی۔اسی لئے یہ پیغام اقبالؔ ایک ہمہ گیر ہدایت ہے۔
کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں
مومن ہے تو وہ آپ سے ہے تقدیر الہی
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کار خانے میں
