آپسی رنجش کو فرقہ وارانہ تشدد کا نام دینے کی کوشش کرنے والوں کی سنگمیش نے کی مذمت

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ:15اگست کے دن شیموگہ میں ساورکر فلکس تنازعہ میں مسلم نوجوانوں کی طرف سے پریم سنگھ کو چاقوکے ذریعہ وار کرنے کے واقعہ سے شیموگہ میں کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔اس کے بعد منگل کو بھدراوتی میں سنیل نامی ہندو نوجوان پر دوسری قوم کے نوجوان نے حملہ کر دیا۔ اس وارداتوںنے نہ صرف شیموگہ ضلع بلکہ ریاست کو پریشان کر دیا تھا۔ بھدراوتی کے ایم ایل اے بی کے سنگمیش نے سنیل پر ہوئے حملے کو لیکر بی جے پی لیڈروں کو زبردست جوابی حملہ کیا ہے۔ بی کے سنگمیش نے ان تمام واقعات کے بارے میں دگ وجئے نیوز کے سامنے ایک ویڈیو جاری کیاہے ، جس میں انہوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ حملہ کے شکار سنیل اور حملہ کرنے والے مبارک دونوں دوست ہیں۔ جوئے بازی کو لیکر دونوں کے درمیان جھگڑا ہواتھا۔ اس وجہ سے مبارک نے سنیل کی ناک پر وار کیا تھا ۔لیکن اس موقع کا فائدہ اٹھاکر بی جے پی اسے شہر میں فرقہ وارانہ فسادات اور بدامنی پھیلانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھدراوتی میں ہم سب ایک ہی ماں کے بچوں کی طرح رہتے ہیں۔ بی جے پی مذہب کے نام پر سیاست کرنے جا رہی ہے۔ لیکن بھدراوتی میں اس کوموقع نہیں دیا جائیگا۔انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات میں نہ سیاستدانوں کے بچے مرے ہیں اور نہ ہی امیروں کے بچے مرے ہیں۔ غریبوں کے بچوں کی ہی جانیں گئی ہے۔سنیل بھدراوتی اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد گھر جانے ہی والاتھا۔ لیکن بی جے پی نے اس معاملے کو بڑا بنا دیا ہے اور انہیں اسپتال میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میںیہ بات مندر آکر بتاؤں گا کہ یہ فرقہ وارانہ فساد نہیں ہے بلکہ جوئے کی وجہ سے ہوا فساد ہے۔ اگر بی جے پی والوں کے پاس ضمیر ہے، اگر وہ بھگوان پر یقین رکھتے ہیں تو وہ مندر میں قسم کھائیں کہ یہ فرقہ وارانہ فساد ہے۔ بی کے سنگمیش نے انہیں مندر میں آکر حلف لینے کا چیلنج دیاہے۔مزید برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی آگ لگا کر پانی گرم کرنے کا کام کر رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مبارک کون ہے تو میں تھانے میں فون کر کے اس شخص کو کیوں رہا کروائوںگا؟ بی جے پی جھوٹ بولنے میں ماہرہے۔ جھوٹ بولنے اور اُکسانے میں انکا جواب نہیں ۔ بی جے پی کا ایجنڈا صرف ہندوتوا اور آتش زنی کرناہے۔ بی کے سنگمیش نے سخت نکتہ چینی کی کہ گائوں اگر پرامن رہتا ہے تو یہ بی جے پی کو برداشت نہیں ہوتا ہے۔