شیموگہ : شیموگہ شہر میں امن برقرار رکھنے کیلئے ضلع انتظامیہ مسلسل مناسب طور پر تمام اقدامات کر رہی ہے لیکن اس کیلئے عوام کو بھی تعاون کرنا چاہیے۔اس بات کی اپیل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر آر سیلوامنی نے کی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں شہر میں ہونے والے کچھ ناخوشگوار واقعات کے پیش نظرآج ضلع انتظامیہ ہال میں بلائے گئے امن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسئلے کو فوری حل کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ ہمہ وقت تیار ہے۔ محکمہ پولیس امن و امان برقرار رکھنے کیلئے تمام تر اقدامات کر رہا ہے اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ معاشرے میں اختلاف رائے ہوناعام بات ہے۔ ایسے معاملات میں کمیونٹی لیڈروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوںکو نصیحت کریں اور مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ ناخوشگوار واقعات کی وجہ سے بے گناہ لوگ مصائب کا شکارہوتے ہیں اور تاجران کو پریشانی کا شکار ہونا پڑتاہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اس کاموقع نہیں دینا چاہئے۔نشست میں شریک پولیس سپرنٹنڈنٹ لکشمی پرساد نے کہا کہ شیموگہ میں گانجہ پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تقریباً روک لگا دی گئی ہے۔ اس کیلئے پولیس کے ساتھ عوام کا تعاون ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین کوبچوں کے اخراجات پر نظر رکھنی چاہئے۔ بلدیاتی ادارے حساس علاقوں میں سی سی کیمرے لگانے کیلئے مقامی اداروں کی جانب سے پہل کرنے کیلئے فکر مند ہیں۔انہوں نے کہا کہ ا سمارٹ سٹی کی طرف سے شیموگہ شہر میں 135 سی سی کیمرہ نصب کئے جا رہے ہیں۔ وارڈ سطح پر امن اجلاس باقاعدگی سے منعقد کرنے کی ہدایات پہلے ہی دے دی گئی ہیں۔آئی جی پی کے تیاگراجن نے کہا کہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف نظر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ویب سائٹس پرکسی بھی طرح کی اُکسانے والی اشتعال انگیز خبریں بھیجنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اجلاس میں امن و امان برقرار رکھنے کے حوالے سے مختلف کمیونیٹی کے رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر زور دیا گیا۔ حساس مقامات پر سی سی کیمرے لگائے جائیں۔ گنیش تہوار میںکسی بھی طرح کا خلل نہ پڑنیپر اصرار کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرگانجہ کی سرگرمیوں پر کنٹرول کیا جائے تو زیادہ تر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اشتعال انگیزی کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔ متعدد رہنماؤں نے اظہار کیا کہ شہر میں غیرقانونی فلکس کی تنصیب کو کنٹرول کیا جائے۔
