بنگلورو:۔کوروناکے دوسری لہر میں جہاں عام لوگوں کا جینا محال ہواہے اور لوگ اسپتالوں میں اپنی جانیں بچانے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں وہیں عام لوگ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے سونے کے زیوارت کو ہی سہارا بنائے ہوئے ہیں،حالانکہ کوروناکی پہلی لہرمیں ہی ہزاروں لوگوں نے سونے زیورات گروی رکھ کر اپنی ضرورتوں کو پوراکرنے کی کوشش کی تھی اور یہ سوچا تھا کہ حالات سدھرنے کے بعد وہ اپنے گروی رکھے ہوئے سونے کو چھڑوالینگے،لیکن حالات سدھرنے سے پہلے ہی دوبارہ کوروناکی دوسری لہر وقوع پذیر ہوئی ،اور عام لوگوں کی معیشت کی کمر توڑ دی اور لوگ اپنی ضروریات کو پورا کرنےکیلئے یاتو پرانے زیوارت کے لون کو ریونیول کروانے کیلئے مجبور ہوئےیاپھر دوسری زیوارت کو گروی رکھ کر اپنی ضروریات پوراکرنے لگے۔یہی نہیں پچھلے سال جن لوگوںنے سونے کے زیوارت گروی رکھے تھے اُن میں سے کئی لوگوں کے زیورات کے قرضہ جات پر سود کی شرح زیادہ ہونے سے نیلا م ہوچکے ہیں۔کرسل نامی ایجنسی نے اس سلسلے میں سروے کروایاہے،جس کے مطابق صرف بینکوں میں ہی سونے زیورات پر قرضہ لینے کی شرح میں 70فیصداضافہ ہواہے،علاوہ اس کے امسال جنوری سے اب تک بینکوں میں سونے کے زیورات پر56ہزار کروڑ روپیوں کاقرضہ لیاگیاہے۔پچھلے سال کوویڈ کی وباء میں اضافہ ہوتے ہی ریزرو بینک آف انڈیانے قرضے کی پالیسی میں تبدیلی لائی تھی،جس کے مطابق سال2021مارچ تک جو سونا گروی رکھاگیاتھااُس پر90 فیصد تک قرضہ دیاجائے،اس سے قبل سونے کی جملہ قیمت پرصرف75 فیصدہی قرضہ دیاجاسکتاتھا۔ایک طرف بینکوںمیں قرضہ جات لینے والوں کی شرح میں اضافہ ہواہےتو دوسری جانب بینک پرانے قرضہ جات لینے والوں پر دبائوڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے پرانے قرضہ جات کو فوری طورپر اداکریں،یا پھر سود کی رقم کو ادا کرتے ہوئے اپنے قرضہ جات کو ریوینول کروائیں۔دوسری جانب کرناٹک میں لاک ڈائون کی وجہ سے بند ہوچکے پان بروکرس یا مارواڑی نئے قرضہ جات دینے میں ناکام ہوچکے ہیں۔البتہ پرائیویٹ فائنانس کمپنیاں سونے کے زیورات پر بڑے پیمانے میں قرضے دے رہے ہیں۔
