شیموگہ:۔ساورکرکی تصویرکے تعلق سے جو تنازعہ پیدا ہوا ہے اس سے پی ایف آئی کاکوئی تعلق نہیں ہے،البتہ پی ایف آئی ساورکرکے نظریات کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ ساورکرنے جنگ آزادی میں کوئی رول ادانہیں کیاہے،شیموگہ میں ہونے والے تنازعے میں چھوٹے پیمانے پر چند مسلمانوں نے احتجاج کیاہے،اسی کو بڑا تنازعہ بناکر بی جے پی نےمسلمانوں پر زبردستی معاملے کوتھوپنے کی کوشش کی ہے۔پی ایف آئی ہو یا ایس ڈی پی آئی اس ساز ش میں نہیں ہے۔اس بات کااظہار پی ایف آئی کے ضلعی صدر عبید اللہ شریف نے کیاہے۔انہوں نے کہاکہ پریم سنگھ کے معاملے کے حملے میں انہوں نے کہاکہ15 اگست کے بعد جوحالات پیدا ہوئے تھے وہ نہایت خطرناک تھے،ہزاروں کی تعدادمیں سنگھ پریوارکے کارکنان جمع ہوئے تھے،امیر احمد سرکل میں ساورکرکی تصویرکولیکر مزید تنازعہ پیداکیاہے،پریم سنگھ پر حملہ کس نے کیاہے اور کیسے کیا اس سلسلے میں پولیس تحقیقات کررہی ہے،اس میں بھی ہماری تنظیم کا کوئی ہاتھ نہیں ہے،البتہ شیموگہ پولیس اور کرناٹکا حکومت پوری طرح سے یہ کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ اس معاملے کو پی ایف آئی یا ایس ڈی پی آئی سے جوڑاجائے ،اس کیلئے وہ پہلے سے ہی ذہنی طو رپرتیاری کرچکے ہیں،ہر جگہ تنظیم کو بدنام کرنے کی کوشش ہوئی ہے او رہر جگہ یہ لوگ ناکام ہوئے ہیں اور اُمیدہے کہ جو الزامات ہم پر لگائے جارہے ہیں اُس میں بھی بری ہوجائینگے۔پی ایف آئی کے لیڈران کہیں بھی نہیں گئے ہیں،جب بھی مسلمانوں پر آفت آئی ہے اُس وقت پی ایف آئی نے صف اول میں رہ کر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔اب بھی ہم محکمہ پولیس کے ساتھ لگاتار تال میل میں ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ بے قصور نوجوانوں کو کوئی پریشانی نہ آئے۔پولیس تحقیقات کے نام پرمسلم نوجوانوں کو حراساں کررہی ہے،اس سلسلے میں بھی ہم پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔چونکہ یہ معاملہ بہت مختصرہے،اس لئے ہم خودہی اس معاملے سے نمٹ رہے ہیں،بنگلوروسے ہمارے قائدین آئیں،اس بات کو ہم فی الوقت محسوس نہیں کررہے ہیں،ہم ان حالات سےخودہی نمٹ لے گیں۔اس دوران انہوں نے بتایاکہ جن مسلم نوجوانوں کو پولیس حراساں کررہی ہے،ان کے اہل خانہ سے ہم رابطے میں ہیں اور ہم اُنہیں ہمت دلانے کا کام کررہے ہیں،ساتھ ہی ساتھ ان نوجوانوں کو حراساں نہ کریں اس کیلئے بھی پولیس کے رابطے میں ہیں۔
