احتجاجیوں نے صدرِ ہندکو لکھے ہزاروں خط،احتجاج میں وکلاء،ادباء اور دلت تنظیموں نے لیاحصّہ
بنگلورو:۔بلقیس بانو کے اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں سزاپانے والے 11 مجرموں کی رہائی کے خلا ف آج بنگلورو سمیت ریاست کے 15 اضلاع میں مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیاگیاہے۔سنیچر کے دن بہتوا کرناٹکا،اکھیل بھارت جنوادی مہیلاسنگھا سمیت مختلف تنظیموں نے یہ احتجاج کیا،جس میں وکلاء،ادباء،دلت تنظیمیں ،دانشوران اور حقوق انسانی کے جہدکاروں نے حصّہ لیا۔احتجاج کا اہم مرکز بنگلورو فریڈم پارک تھا،جہاں پر جہدکاروں نے بلقیس بانوکی ہمت باندھنے کیلئے بلقیس بانوکو ہزاروں خطوط لکھے،ا سکے بعد گجرات حکومت کے فیصلے کے خلاف شدید برہمی کااظہارکیااور اس بات کامطالبہ کیاکہ مجرموں کو دوبارہ جیل بھیجاجائے،ا سکے علاوہ ان پر سخت قانونی کارروائی کی جائے،اس کیلئے سپریم کورٹ آگے آناہوگا۔احتجاجیوں نے کہاکہ وزیر اعظم نریندرمودی نے یوم آزادی کے امرت مہواتسوکے موقع پر لال قلعے سے یہ آواز دی تھی کہ ملک کی ترقی کیلئے خواتین کو عزت دینا اور اُن کے حقوق کو اداکرنا بے حد ضروری ہے،لیکن ان کی ہی ریاست میں آبروریزی کے مجرموں کو آزاد کرنا کہاں تک درست ہے۔سال2018 میں وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت میں ہونے والی کابینہ کی نشست میں یہ فیصلہ لیاگیاتھاکہ عمر قیدپانے والے یاپھر موت کی سزا پانے والے مجرموں کو ان کی سزامیں رعایت دینا درست نہیں ہے،لیکن اس فیصلے کے خلاف ان کی آبائی ریاست میں ریاستی حکومت نے ایک عورت کی آبروریزی کرنے والے مجرموں کو رہاکرتے ہوئے عورتوں کی توہین کی ہے او ران کاحق سلب کیاہے۔احتجاج میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیاکے صدر اورمصنف آکارپٹیل نے بات کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی حقوق انسانی کی پامالی ہوتی ہے اُس وقت تمام تنظیموں کو مل کر احتجاج کرنے کی ضرورت ہے،بلقیس بانونے مسلسل بیس سالوں سے اپنا درد سہاہے،ایسی عورت کو اب بھی انصاف نہیں مل رہاہے،اس کیلئے ہمیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔فنکار کے رامیانے بات کرتے ہوئے کہاکہ بلقیس بانو ہمارے گھرکی بیٹی کی طرح ہے،اُس پر جو ناانصافی ہوئی ہے ایساکسی کے ساتھ نہ ہو،حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سب کو مل کر آواز اٹھانی ہوگی۔مصنف ڈاکٹر کے شریفہ نے بات کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی آزادی کیلئے مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں،لیکن ان قربانیوں کوچھپانے کی کوشش کی جارہی ہے،اسی طرح سے سال200 میں ہونے والے گجرات فسادات پر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اور دنیا کو ایسادکھایاجارہاہے کہ گجرات میں کچھ ہواہی نہیں ۔ دوسری طرف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو مذہب کے نام پر بخشا جارہاہے اور اقلیتوں پر ظلم ڈھایاجارہاہے۔آخرمیں احتجاجیوں نے گورنر میمورنڈم پیش کیااور مطالبہ کیا صدرِ ہند فوری طورپر اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اورمجرموں کودوبارہ جیل بھیجیں۔
