شیموگہ : ۔مدارس اسلامیہ میں جانچ و تحقیقات کے لئے کرناٹک حکومت کی جانب سے پیش رفت ہوئی ہے جس کا مقصد تعلیمی میعار کو جاننا بتایا جارہاہے لیکن ان احکامات کے پیچھے خفیہ ایجنڈہ ہے ، اس لئے مدارس اسلامیہ سے گذارش ہے کہ وہ وقت رہتے ہوئے اپنے دستاویزات تیار کرلیں ، اس بات کا اظہارسماجی کارکن اور ضلع کانگریس کے سکریٹری عارف خان عارو نے کیا ہے ۔ انہوںنے اس سلسلے میں اخباری بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس اسلامیہ پر حکومت کی بری نظر ہے اور وہ تعلیمی میعار کے نام پر کرناٹک کے مدرسوں کا سروے کروانا چاہ رہی ہے جبکہ اس سروے کے پیچھے انکی نیت صاف نہیں ہے ۔ آنے والے دنوں میں اس سروے کو بنیاد بنا کر مدارس کو نشانہ بنایا جاسکتاہے ۔ جس طرح سے آسام میں مدرسوں کو بدنام کرتے ہوئے بلڈوزر چلانے کی مہم شروع کی گئی ہے وہ نہایت افسوسنا ک ہے ، اس وقت کرناٹک حکومت باربار بلڈوزر کی پالیسی شروع کرنے کی بات کررہی ہے اس لئے مدرسوں کو اس طرح کی کارروائیوں سے بچانے کیلئے دستاویزات کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔ مدرسوں کا سالانہ آڈٹ ، پراپرٹی کے دستاویزات ، چندے کا حساب ، اساتذہ کی مکمل رپورٹ جیسے دستاویزات کو تیار کریں اور اگر یہ دستاویزات نہ ہوں تو قانونی ماہرین سے مشورہ لے کر درست کرلیں ۔ چونکہ مدرسے مسلمانوں کے لئے اہم ہیں اس وجہ سے ان مدرسوں کی حفاظت بے حد ضروری ہے ۔
