لکھنؤ: مدرسہ بورڈ کی چار اہم تجاویز کو انتظامیہ نے منظوری دیتے ہوئے اتر پردیش میں غیر تسلیم شدہ مدرسوں کا سروے کروانے کا حکم جاری کردیا گیاہے۔ اب سرکاری امداد یافتہ مدارس میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے تبادلے کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو زچگی اور بچوں کی دیکھ بھال کی چھٹی بھی ملے گی۔یوپی مدرسہ ایجوکیشن کونسل کے رجسٹرار جگ موہن سنگھ کے مطابق حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ ریاست کے امداد یافتہ مدارس کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کا تبادلہ اب باہمی رضامندی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے درخواست کو اس کی سفارش کے ساتھ رجسٹرار مدرسہ بورڈ کو دو ماہ کے اندر ضلع اقلیتی بہبود افسر کو بھیجنا ہوگا۔رجسٹرار ایک مہینے میں امتحان کرکے اس پر فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ اگر کہیں انتظامی کمیٹی میں اختلاف ہے تو متوفی پر محصر رہنے والے کی تقرری کے احکامات ضلع اقلیتی بہبود آفیسر اور پرنسپل کے ذریعہ جاری کئے جاسکتے ہیں۔ کمیٹی کے تنازعہ کی صورت میں اسے روکا نہیں جائے گا۔وہیں امداد یافتہ مدارس میں کام کرنے والی اساتذہ اور دیگر خواتین ملازمین کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ اب دیگر محکموں کی طرح وہ بھی چھ ماہ کی زچگی کی چھٹی حاصل کر پائیں گی۔ اس کے علاوہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے دو سال کی چھٹی بھی ملے گی۔ حکومت نے متعلقہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ریاست اُترپردیش میں غیر سرکاری تسلیم شدہ مدارس کا سروے ہوگا۔ اس سلسلے میں تمام ضلع مجسٹریٹس کو خط لکھا گیا ہے۔ دراصل، چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کو موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر یہ سروے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں ایسے مدارس کی تعداد، وہاں دستیاب سہولیات اور طلبہ کی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔ اترپردیش میں مملکتی وزیر اقلیتی بہبود اور وقف ڈپارٹمنٹ دانش آزاد انصاری نے کہا کہ اس سروے کا مقصد طلباء کیلئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانا ہے ۔ حکومت کے احکامات کے مطابق غیرمسلمہ مدرسوں کے سروے کا کام5/اکتوبر تک مکمل کرلیا جائے گا ۔ جن ٹیموں کے ذریعہ یہ کام کیا جائے گا ان میں سب ڈیویژنل مجسٹریٹ کے عہدیدار ، بنیادی شکشا ادھیکاری کے عہدیدار اور ڈسٹرکٹ مائناریٹی آفیسرس بھی شامل ہیں ۔ سروے کی تکمیل کے بعد اس کی رپورٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حوالے کی جائے گی ۔ بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مکمل رپورٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو پیش کرینگے ۔
