اچھی انجن کی ضرورت ہے

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بھارت میں اس وقت اس بات کاچرچہ ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کی کمی ہےاور مسلمانوں کی کوئی بھی تنظیم مستقل مزاجی یا مستحکم نہیں ہے،اگر کوئی تنظیم ہےبھی تو وہاں پر خاندانی اثرورسوخ ہے یاپھر عہدوں کیلئے ماراماری ہے۔بھارتی مسلمانوں کیلئےاگر کوئی تنظیم مثال کے طورپر ہے تو وہ آر ایس ایس ہے جوپچھلے90 سالوں سے زیادہ عرصے سے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کام کررہی ہے۔90 سالوں سے اس تنظیم میں نہ عہدوں کیلئے ٹگافر دیکھاگیانہ ہی اس تنظیم سے جڑے ہوئے عہدیداران اسٹیجوں،گلپوشی یا پھر اپنے مفادکیلئے تنظیم کااستعمال کیا۔اس تنظیم کی بنیاد بھارت کو ہندوراشٹربنانے کیلئے رکھی گئی تھی اُسی مقصدکیلئے آج بھی اس کے کارکنان جدوجہد کررہے ہیں،سوائے چند ایک عہدیداروں کے نام لوگوں کی زبان پر ہیں باقی تمام عہدیدار پس پردہ رہ کر اپنے ایجنڈوں کو پورا کرنے کیلئے پوری طاقت لگارہے ہیں۔جبکہ مسلمانوں کو تنظیمی طورپر کام کرنے کیلئے قرآن وحدیث نے باربار راستہ بتایاہے،مگر ان راستوں کو چھوڑکر مسلمانوں کی تنظیمیں کام کررہی ہیں جس کی وجہ سے اکثر تنظیمیں ہوتے ہوئے بھی مسلمان نامرادہورہے ہیں۔کئی تنظیمیں مسلمانوں کی قیادت کیلئے تشکیل تو پاچکی ہیں،مگر وہ صرف اور صرف الیکشن یا قدرتی آفات کے موقعوں پر متحرک ہوجاتی ہیں اور یہ بات ظاہرکرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہم ہی ہر مسئلے کاحل ہیں۔جب تک مسلمانوں کی تنظیموں میں کام کرنے کیلئے قربانی کاجذبہ پیدانہیں ہوتا اور جب تک مسلمان اپنے امیرکا انتخاب نہیں کرتے اُس وقت تک مسلمانوں کی تنظیمیں محض نام کیلئے رہی گیں اور کام کچھ بھی نہیں ہوگا۔حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں مگر ان حالات سے مقابلہ کرنے کیلئے مسلمان بالکل بھی تیارنہیں ہیں اور اس کا خمیازہ پورے مسلمانوں کو اٹھاناپڑرہاہے۔چھوٹی چھوٹی تنظیمیں تشکیل پانے کے بعد وہاں کے عہدوں کیلئے جس طرح سے بھاگ دوڑ دکھائی دیتی ہیںاُسی بھاگ دوڑ کے دوران وہ تنظیم اپنا وجود ختم کرلیتی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ اس وقت آر ایس ایس نے اس بات کااعلان کیاہےکہ وہ سال2025 سے قبل بھارت کے ہر دیہات میں آر ایس ایس کی شاخ کا بنیاد رکھیں گے،اتناہی نہیں موہن بھاگوت نے اس بات کا اعلان کیاہے کہ وہ مسلمانوں کو بھی قیادت کیلئے آگے لائینگے۔ممکن ہے کہ آرایس ایس کی ہاں میں ہاں ملانے والےیا حکومتوں کی چمچہ گری کرنے والے،پولیس کی مخبری کرنے والے مسلمانوں کو قیادت کا موقع دینے کی تیاری ہورہی ہے۔اگر آر ایس ایس مسلمانوں میں موجود قیادت کی کمی کو محسوس کررہی ہے تو مسلمان اس تعلق سے کیوں نہیں فکرکررہے ہیں؟۔یقین مانئے جب تک قیادت کی کمی ہوتی ہے اُس وقت تک کوئی بھی قوم آگے نہیں آسکتی کیونکہ ہر ریل گاڑی کو چلانے کیلئے انجن کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر ڈبے کو اس انجن پر بھروسہ کرناہی پڑتاہے،مگر مسلمانوں کے یہاں ہر ایک شخص انجن بننے کیلئے تیارہے مگر ڈبہ بنناکوئی نہیں چاہتا،جبکہ انجن بھلے ہی دیکھنے میں معمولی ڈبہ ہوتاہے لیکن اس کی ذمہ داری بہت بڑی ہوتی ہے۔اگر انجن صحیح رہے جائے تو ڈبوں کیلئے کوئی پریشانی نہیں رہے گی اور ہر ڈبے میں سینکڑوں لوگ سوار ہوسکتے ہیں۔مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایک اچھی انجن کو تشکیل دیں اور اُس پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور وقت وقت پر انجن کی سرویس بھی کریں اور سرویس کرنے کےباوجود بھی اگر انجن میں خرابی دکھائی دیتی ہے تو اُس انجن کو ہی تبدیل کریں۔حالانکہ ہماری کئی ایسی تنظیمیں ہیں جو اب بھی کوئلے کی انجن لگاکر یعنی پرانی سوچ،پرانی فکر ،کمزور اور ضیعف انجن کے ساتھ چل رہی ہیں،جس کی وجہ سے مسلمان دوسری قوموں کی رفتار کے ساتھ نہیں چل پارہے ہیں۔ایسانہیں ہے کہ پرانی انجن کو بیکار کہاجاسکتاہے ،مگر ہر انجن کو تیارکرتے وقت پرانی انجن کے فارمولے کو ہی بنیاد بنایاجاتاہے۔مسلمان فوری طورپر اس سمت میں کام کریں اور اچھی انجنوں کو لگا کر قوم کو تیزی کے ساتھ دوسری قوموں کے مقابلے میں کھڑا کریں،یہ وقت کی ضرورت ہے،اگر اب بھی ان باتوں کو سمجھانہیں جاتاہے تو یہ بے وقوفی کے سوائے کچھ نہیں ہے۔