کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا سے اردو غائب; کانگریس کے اقلیتی قائدین ہمیشہ کی طرح خاموش

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
گلبرگہ :بھارت کی سب سے قدیم پارٹی جس کو عوام نے آزادی کے بعد سے مسلسل اقتدار سنبھالنے کا موقع دیا ہے لیکن کانگریس نے اپنے 60سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کو کہاں لا کھڑا کیا ،سچر کمیٹی کی رپورٹ اس بات کاسب سے بڑا ثبوت ہے ۔مسلمانوں نے ہمیشہ کانگریس کو ووٹ دیا لیکن کانگریس نے مسلمانوں کو کیا دیا اس کا محاسبہ کبھی نہیں کیا گیا ۔ کانگریس2024میں اقتدار کی کرسی پر لوٹنے کیلئے بے چین ہو رہی ہے اور مسلمانوں کے ووٹوں کی طلب گار ہے ۔ موجودہ حالات میں کانگریس کو مضبوط کرنے کے لئے راہول گاندھی نے "بھارت جوڑو یاترا ، ملے قدم جڑے وطن ” مہم کا اعلان کیا ہے جس کا آج 7ستمبر سے آغاز ہو چکا ہے ۔اس مہم کے حوالے سے کانگریس نے جو فلیکس اشتہار جاری کیا ہے اُس میں اردو کو نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔راہول گاندھی شاید یہ بات بھول چکے ہیں کہ انکے پڑنانا پنڈت جواہر لال نہرو اپنی خط و کتابت اردو میں کیا کرتے تھے اور انکی دادی اندرا گاندھی بھی اردو زبان کو چاہنے والوں میں سے تھیں ۔ بھارت جوڑو یاترا کہ فلکس میں تمام زبانوں کو شامل کیا گیا ہے سوائے اردو کے ۔کانگریس نے فلیکس اشتہار میں اردو کو نظر انداز کر کے بھارت جوڑو یاتر ا کا جو نعرہ دیا ہے کہ ملے قد م جڑے وطن ، کام ٹھیک اس کے برخلاف ہوا ہے ۔کانگریس کی اس قومی مہم میں اردو زبان کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے یا پھر کوئی سازش کی گئی ہے اس کا جواب اردو داں عوام کو کون دے گا ؟کانگریس کے مائنا ریٹی قائدین کے پاس اس سوال کا کیا جواب ہے ؟کانگریس ہمیشہ اردو زبان اور اخبارات کو نظر انداز کرتی رہی ہے اور کانگریس کے مائناریٹی قائدین کو اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دلائی گئی لیکن یہ بیچارے بے زبان ہیں ان سے اردو کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف اپنی پارٹی میں احتجاج کی تو قع نہیں کی جا سکتی ۔ایسے میں فیصلہ اردو داں عوام کو کرنا ہے کہ وہ اردو کے ساتھ کانگریس کی نا انصافی کو کیسے برداشت کریں گے ۔