کیا کرناٹک کے مدارس کے سروے کیلئے ذمہ داران تائید کر ینگے ؟ ابھی تک مدارس کے سروے کو لیکر ذمہ داران میں نہیں ہے کوئی ہلچل

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:(خصوصی رپورٹ مدثراحمد):۔ملک کی مختلف ریاستوں میں مدارس کے سروے کو لیکر حکومتیں تیزی دکھا رہی ہیں،اُسی کے رد میں اترپردیش کے دیوبند میں مدارس اسلامیہ کے سروے کے تعلق سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں یہ طئے پایاگیاکہ ذمہ داران حکومت سے اس سلسلے میں بات کرینگے۔کرناٹک میںبھی مدارس اسلامیہ کے سروے کے تعلق سے وزارت تعلیم کی جانب سے احکامات جاری کئے گئے ہیں مگر اب تک ان احکامات کو لیکر محکمہ کی جانب سے ضوابط طئے نہیں کئے گئے ہیں ،کرناٹک کے مدارس میں بھی اس تعلق سے اب تک کسی بھی طرح کی ہلچل ذمہ دارانِ مدارس کی طرف سے نہیں دیکھی گئی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کرناٹک میں وقف بورڈکے ماتحت رجسٹرشدہ مدارس کی جملہ تعداد317 ہے،جبکہ غیر رجسٹرشدہ مدارس کی تعداد1427 ہے۔حکومت نے رجسٹرد اور اَن رجسٹرد مدارس کے علاوہ نجی مدارس کے سروے کیلئے احکامات جاری کئے ہیں۔اس سروے کامقصد یہ بتایا گیاہے کہ ریاست میں جو مدارس موجودہیں اُن مدارس میں کیا تعلیم دی جارہی ہے اور ان مدرسوں میں کونسا نصاب پڑھایاجارہا ہے،اس کے علاوہ مدارس کی املاک اور آمدنی کے وسائل کے تعلق سےبھی تفصیلات اکٹھاکرنے کی بات کی گئی ہے ۔ امکانات ہیں کہ سروے کاکام اسی مہینے کے اواخرمیں کیا جا ئیگا  جس کیلئےمحکمہ تعلیم عامہ کے افسران کو ذمہ داری دی گئی ہے ۔ کرناٹک کے گلبرگہ ضلع میں سب سے زیادہ رجسٹرد مدارس ہیں جن کی تعداد52 بتائی گئی ہے،جبکہ اَن رجسٹرد مدارس کی تعداد47 ہے،وہیں دکشن کنڑامیں679 اَن رجسٹرد مدرسے ہیں،حالانکہ حکومت کا کہناہے کہ اس سروے سے مدارس اسلامیہ کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں مددملے گی،لیکن مدارس سے جڑے ہوئے افراد کا کہنا ہے کہ اس سروے سے حکومت کی نیت صاف دکھائی نہیں دے رہی ہے،جو حکومت مدارس میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی بات کررہی ہے وہ کیونکر پہلے اردو اسکولوں کی ترقی کیلئے کام نہیں کررہی ہے۔جب تک حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں پیش رفت ہوجاتی ہے اس سے قبل ہی مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں کو اس سمت میں فیصلہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے دنوں میں اس سروے کو بنیاد بناکر مدارس کو ختم کرنے کی پہل نہ کی جائے ۔ عام مسلمانوں کی رائے ہے کہ ذمہ داران مدارس اس سلسلے میں فوری پیش رفت کرتے ہوئے حکومت کے سامنے سوال رکھے کہ آخر مدارس کا سروے ہی کیوں کیا جارہاہے ؟۔