بنگلورو:۔لگتاہے کہ عام لوگوں کی زندگی مزید مشکل ہونے جارہی ہے ۔ جی ایس ٹی،گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور روزمرہ کی اشیائوں کی قیمتوں کے بعد اب ریاست کی عوام کو اور ایک پریشانی بڑھنے جارہی ہے،جی ہاں یہ پریشانی چاول کی قیمتوں میں اضافے کو لیکر ہورہی ہے۔اب فی کلو چاول8تا10 روپئے کااضافہ ہورہاہے۔کرناٹک میں پچھلے دومہینوں سے ایک دو روپئے کے اضافے کے ساتھ چاول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں،لیکن اب اچانک فی کلو چاول کی قیمت پر8 تا 10 روپئے کااضافہ کیاگیاہے۔اسٹیم رائس کی قیمت فی کلو38 روپئے سے بڑھ کر48 روپئے،سونا مسوری52 روپئے سے بڑھ کر60 روپئے،معمولی چاول 30روپئے سے بڑھ کر34 روپئے جبکہ زیرہ رائس کی قیمت110 سے بڑھ کر120 روپئے ہوگئی ہے۔ملک میں امسال چاول کی پیداوار میں کمی آئی ہے اس وجہ سےچاول کو بیرونی ممالک سے برآمدکرنے کی بات کہی جارہی ہے،اس وجہ سے چاول کی قیمتوں میں 20 فیصد کا اضافہ کیاجارہاہے۔وہیں دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جن علاقوں میں زراعتی فصلوں کی پیداوار ہواکرتی تھی وہاں پر اب باغاتی فصلیں اُگائی جارہی ہیں۔کرناٹک کے بیشتر علاقوں میں ادرک اور سپاری کی کاشت عام ہوچکی ہے،جس کی وجہ سے کرناٹک میں بھی چاول کو بیرونی علاقوں سے برآمد کرنے کے حالات پیدا ہوئے ہیں۔
