
امت مسلمہ اپنی اصل حیثیت کو گنوانے کی ضرورت نہیں ہے: مولانا وحیدالدین خان عمری

شیموگہ(مدثر احمدشیموگہ):امت مسلمہ کو اپنی اصل حیثیت کو گنوانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسلمان ہوتے ہوئے اس ملک کے حالات کا مقابلہ کریں، اس بات کا اظہار جماعت اسلامی ہند کے ریاستی جنرل سکریٹری مولانا وحید الدین خان عمری نے کیاہے۔ آج شہر میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقدہ خطاب عام بعنوان حالات حاضرہ اور ہماری ذمہ داریاں میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہماری کئی ذمہ داریاں ہیں اسکے علاوہ ملت اسلامیہ ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داریاں یہ بھی ہیں کہ ہم خیر امّت کے طور پر کام کریں، ہمیں معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، ظلم سے بھری ہوئی اس دھرتی پر ہرایک کے ساتھ خیر کا برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔ امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ اپنی اصل حیثیت کو نہ گنوائے ، اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے ملک کو چلانے، یہاں کی سیاست میں تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارےفکری اختلافات کیوں نہ ہوں لیکن اس ملک کے مالک ہونے کا دعویٰ کرنا چاہیے ۔ مختلف ایشو اٹھائے جارہے ہیں وہ صرف ملک کو بانٹنے کی کوشش ہے، جوبھی ایشیو اٹھایا جارہاہے اس ایشو کو ملت کا نہیں بلکہ ملک کا ایشیو بناکر قانونی دائرے میں اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ ملک کے حالات بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں ہیں باوجود اسکے ملک کے حالات پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کئی ممالک میں حالات بدترین ہیں۔ ملک کے مسلمانوں کے لئے آزادی سے قبل بھی آزادی کے بعد بھی حالات تشویشناک رہے ہیں لیکن اس کے لئے صبر کرنے کی ضرورت ہے۔ نظریاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمان دنیا کی سب سے بڑی جماعت ہے کیونکہ اسلام مکمل ضابطئہ حیات ہے۔ ہم کشکول لے کر مانگنے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے پاس دنیا کو دینے کے لئے بہت ہے ۔ ان حالات میں ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم مثبت انداز میں سوچیں منفی سوچ نہ رکھیں۔ اپنے آپ کو مایوسیوں سے نکالیں۔ سستی کاہلی نہ کریں۔ حالات کے تحت جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کریں۔ جب ملک میں اجتماعی فسادات ہوتے ہیں ایسے میں منظم ہوکر حل نکالیں،انفرادی طور پر مسائل کا حل نہیں ہوسکتا اسکے لئے کسی بھی جماعت کے ساتھ کیوں نہ ہوں انکے ساتھ مل کر کام کریں۔ ملک کی 90 فیصد آبادی امن چاہتی ہے ایسے میں اس آبادی کے ساتھ مل کر ظلم کے خلاف کام کرتے ہوئے امن بحال رکھنے کے لئے کام کیا جائے۔
ہم فکرمند ضرور ہیں لیکن اللہ کے پیغام پر عمل پیرا نہیں ہیں: مفتی سیدمجیب اللہ قاسمی

اس موقع پر مفتی سید مجیب اللہ قاسمی نے مجموعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج فکر ساری انسانیت کو ہے لیکن ہمارا عملی میدان خالی خالی ہوچکاہے، ہم فکرمند ضرور ہیں لیکن اللہ کے پیغام پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ موجودہ وقت میں جو مایوسی و غم ہے اس سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے سامنے اللہ کے نبی صلی اللہ و علیہ وسلم کی زندگی موجود ہے وہ تمام مسائل کا حل نکالنے کے لئے کافی ہے۔ اللہ کی جانب سےمصیبتیں آتی ہیں۔ اللہ کے نبی کے دور میں بھی انہیں آزمائشوں کے ساتھ گزرنا پڑا ہے۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ سے سے رجوع کیا ۔ آج ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے متحد ہوکر کام کرنا چاہئے۔ اس ملک پر انگریزوں نے اپنی حکومت کے دوران مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے لیکن ان ظلموں کے مقابلے میں موجودہ ظلم کوئی معنی نہیں ہیں۔ آج ہماری فکر اپنے اہل و عیال تک محدود ہوچکی ہے، ہمیں انسانیت کے لئے سوچنے کی بھی ضرورت ہے۔ توحید رسالت اور آخرت کو صرف عبادت تک محدود کرلیاگیاہے۔ حالات میں ایک دوسرے پر شکایتیں ہی چل رہی ہیں، علماء پر عوام کی شکایت،قائدین پر علماء کی شکایت اور علماء کی عوام پر شکایتیں ہیں،اب شکایتیں کرنے کے بجائے حالات کا حل نکالنے کے لئے منصوبہ بندی کرنے کی پہل ضروری ہے۔ ہمارے درمیان اتحاد چاہئے، کوئی بھی ترقی کے لئے کام کررہاہے تو اسکی تائید کی جائے تب جاکر مثبت کام ہوگا۔ ہم متحدہ جماعت ہوکر حالات حاضرہ پر کام کرسکتےہیں۔
حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تعداد کی ضرورت نہیں بلکہ پکے عقیدے کی ضرورت ہے: مولانا اطہر حسین عمری

مسجد فرقان کے خطیب و امام مولانا اطہرحسین عمری نےاس موقع پربات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صرف بھارت کے مسلمانوں کی نہیں بلکہ سارے عالم کے مسلمان پریشانیوں میں ہیں، یہ خیر امت ہے باوجود اسکے آج مسلمانوں کے مساجد محفوظ نہیں، حجاب پر پابندی ہے،اذان پر پابندی ہے، مدرسوں کا سروے کیا جارہاہے ایسے حالات کیوں آئے یہ سوچنے والی بات ہے۔ جانوروں کو بچانے کے لئے ادارے قائم ہیًں لیکن انسانوں کو بچانے والا کوئی نہیں ہے اسکی وجہ یہ ہے مسلمان اپنے حالات کو بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺکی حدیث ہے کہ ایک وقت آئیگا جب دنیا کی تمام مسلمانوں پرایسے ٹوٹینگے جیسے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹتے ہیں، صحابہ نے پوچھا کہ کیا اس وقت مسلمان کم تعداد میں ہونگے، اللہ کے رسول نے کہا کہ نہیں بلکہ مسلمان دنیا کی محبت میں ہوجائینگے جسکی وجہ سے نقصان اٹھائیں گے۔ حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تعداد کی ضرورت نہیں بلکہ پکے عقیدے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اپنے اندر صبر اور تقویٰ پیدا کریں، اگر تقویٰ پیدا کرلیتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچاسکتی ہیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ مسلمانوں کو اپنے اندر طاقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، علم کی طاقت،جسمانی طاقت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ طاقتور ایمان والا کمزور ایمان والے سے بہتر ہے۔ مسلم نوجوان آج گٹھکہ،نشہ کرتے ہوئے کمزور ہوچکے ہیں۔ مسلمانوں اتحادقائم کریںاور اگر منتشر ہوجاتے ہیں ہمیں کوئی بھی توڑسکتاہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو، سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ایک قرآن ،ایک رسول ،ایک خدا کو مانتے ہیں باوجود اسکے مسلمان ایک نہیں ہورہے ہیں۔ آپسی اختلافات کی وجہ سے ہم کھوکھلے ہوچکے ہیں۔ اختلافات کرنے والے اللہ کے نزدیک کائنات کا سب سے برے لوگ ہیں۔
مسلم نوجوانوں میں حوصلہ پیدا کرنے اوراشتعال و گمراہ ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے: امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر سعد بلگامی

جلسے کی صدرارت کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے ریاستی صدر ڈاکٹر سعد بلگامی نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وطن کی فکرکریں، افسوس کی بات ہے کہ چند فیصد لوگ ملک کے حالات کو بگاڑرہے ہیں۔ کچھ فتنے برپانے والے کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں لیکن اسکا اثر سب پر پڑتاہے۔ یہ ملک مختلف شعبوں،زمروں ،زبانوں اور مذاہب کا ملک ہے لیکن یہاں ہندوتوا کو قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جو دستور ہمیں دیا گیاہے اس کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے اس ملک کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اس وقت مسلمانوں کے خلاف اسلاموفوبیا کا طوفان جو برپا ہے ایسے حالات میں ہمیں ثابت قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ مسلم نوجوانوں میں حوصلہ پیدا کرنے اوراشتعال و گمراہ ہونے سے بچانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو موجودہ حالات پر ٹھنڈے طور پر سوچ سمجھ کر کام کرناچاہیے۔ ہم امت مسلمہ ہیں اور ہمارے ذمہ ساری دنیا کو اللہ کی کتاب سے روشناس کرانے کی ذمہ داری ہے۔ یہ مشکلات آنے والی آسانیوں کولانے کی نشانی ہے۔ جب بھی ہم اپنی غلطی کو پہچانااور اسے سدھارا تو ہمارے لئے راہیں آسان ہوجاتی ہیں۔ جو اللہ پر توکل کرتے ہیں اللہ انکے لئے کافی ہے۔ اس وقت فرقہ پرستوں کے خلاف متحدہونے کی ضرورت صدر جلسہ ڈاکٹر سعد بلگامی نے محسوس کی۔




اسٹیج پر مولاناعبدالغفار حامد عمری،مولاناسلیم عمری، مسلم متحدہ محاذ کے صدر پرویز آحمد، سکریٹری اقبال احمد قادری موجود تھے۔ پروگرام میں سینکڑوں سامعین جن میں مرد و خواتین موجود تھے انہوں نے پوری یکسوئی کے ساتھ خطابات کوسنا۔ پروگرام کی نظامت مصطفیٰ بیگ نے انجام دی۔
