معروف مبلغ مولانا جرجیس کو10 سال کی سزا

سلائیڈر نیشنل نیوز
بنارس:۔جہاں علمائے حق ہیں وہیں علمائے سو کی کمی نہیں ہے،انہیں علمائے سوکی فہرست میںاب مولانا جرجیس کانام بھی جڑگیاہے۔اٹاوہ کے مولانا جرجیس کو عصمت دری، بلیک میلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ایک خاتون سے شادی کا بہانہ کرکے عصمت دری، بلیک میل اور ڈرانے دھمکانے کے معاملے میں مجرم مولانا جرجیس کو وارانسی کی فاسٹ ٹریک عدالت نے 10 سال قید کی سزا اور10 ہزار روپئے کا جرمانہ بھی عائدکیاہےساتھ ہی عدالتی تحویل میں لے کر جیل بھیج دیا گیا۔ مولانا نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے۔دراصل جیت پورہ کی رہنے والی ایک خاتون نے ساڑھے چھ سال قبل مولانا جرجیس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ایڈوکیٹ اودھیش کمار سنگھ کے مطابق متاثرہ لڑکی اور چار گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر فاسٹ ٹریک کورٹ نے مولانا کو عصمت دری کا مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قید کی سزا سنائی۔ ڈی جی سی آلوک چندر شکلا نے کہا کہ ایک اسلامی مذہبی رہنما ہوتے ہوئے مولانا نے متاثرہ کے ساتھ عصمت دری جیسا گھناؤنا جرم کیا۔بتایا جارہاہے کہ مولانا بنارس میں جلسوں میں شرکت کیلئے آتے تھے،جیت پورہ پولیس اسٹیشن کے تحت ایک محلے میں رہنے والی ایک خاتون کے مطابق مولانا جرجیس اکثر بحث کرنے بنارس آتے تھے۔ اس دوران وہ ہوٹل میں مقیم تھے، سال 2013 میں بحث کے دوران مولانا سے ان کا تعارف ہوا۔ اس کے بعد وہ کئی بار ملے اور جب بھی بنارس آتے تو مجھے ہوٹل بلاتے تھےاورشادی کے بہانے کئی بار جنسی زیادتی کی اور فحش ویڈیوز بھی بنائی۔ اس ویڈیو کی بنیاد پر بلیک میل کرتے ہوئے وہ جب بھی بنارس آیا، عصمت دری کرتا رہا۔ خاتون کے مطابق مولانا جرجیس 19 نومبر 2015 کو گھر آئے اور کمرے میں لے جا کر زیادتی کی۔،خاتون کے مطابق مولانا نےدھمکی دی کہ اگر کسی سے اس کا ذکر کیا تو پورے ہندوستان میں آپ کو بدنام کر دیں گے۔ یکم دسمبر 2015 کو متاثرہ نے مولانا جرجیس کے خلاف جیت پورہ پولیس اسٹیشن میں عصمت دری، بلیک میلنگ اور دھمکیوں سمیت دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت میں ملزم مولانا جرجیس کو مجرم قرار دیتے ہوئے10 سال کی سزا اور10 ہزار کا جرمانہ عائدکیاہے۔