بنگلہ دیش میں ہندو شردھالوؤں کی کشتی دریا میں سمائی ، 24 ہلاک، کئی لاپتہ 

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
 ڈھاکہ:۔بنگلہ دیش میں ہندو یاتریوں کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے سے 24 افراد ہلاک جبکہ تقریباً اتنے ہی لاپتہ ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس حکام نے بتایا کہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے۔مقامی پولیس افسر شفیق الاسلام نے بتایا کہ ریسکیو ورکرز اور غوطہ خور مزید لاشوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں سے اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، واضح ہو کہ ضعیف الاعتقادی میں خواتین سرفہرست ہوا کرتی ہیں۔پولیس کے مطابق کشتی میں 50 افراد سوار تھے۔ہندو یاتری شمالی بنگلہ دیش میں بوڈا نامی قصبے کے قریب کاروتوا دریا کے درمیان واقع صدیوں پرانے ایک مندر کی طرف جا رہے تھے ،جب ان کی کشتی اچانک پلٹ کر ڈوب گئی۔ایک اور پولیس اہلکار کے مطابق تاحال 25 افراد لاپتہ ہیں۔مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دس افراد کو بچا لیا گیا جن کو ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔مقامی نیوز چینل پر نشر کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ لوگوں سے بھری ہوئی کشتی اچانک الٹ گئی اور مسافر دریا کے گدلے پانی میں گر گئے۔حادثے کی جگہ سے 20 میٹر دور کنارے پر کھڑے لوگ کشتی کو الٹتے دیکھ کر شور مچانا شروع ہوئے۔ حادثے کے وقت موسم صاف تھا اور دریا میں طغیانی نہیں تھی۔بنگلہ دیش میں ہر سال ہزاروں ہندو یاتری بودیشوری مندر میں ہر سال پوجا ارچنا کے لیے جاتے ہیں۔