سائنس ،کمپیوٹر،لیاب تو آپ نے دیکھی ہوگی،لیکن میاتھس لیاب کےذریعے طلباء کی زندگی سنوارنے کا کام کررہے ہیں صہیب بیگ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
داونگیرے:۔فزکس،کیمسٹری،بیالوجی،کمپیوٹر لیاب کے بارے میں تو سُنا ہی ہوگا،لیکن داونگیرے ضلع کے کیرے بلچی میں ایک ایسا اسکول بھی ہے جہاں پر ایک استادنے میاتھس لیاب قائم کرتے ہوئے طلباء کو میاتھس کاماسٹر بنارکھاہے۔یہ میاتھس لیاب داونگیرے ضلع کے کیرے بلچی کےسرکاری اردو ہائی اسکول میں بنائی گئی ہے جس کے موجد اسی اسکول کے معلم صہیب بیگ ہیں۔ صہیب بیگ قریب پندرہ سال قبل اس اسکول میں معلم کے طور پر فائز ہوئے اور جس دن وہ اس اسکول میں قدم رکھے تھے،اُس دوران یہاں کے طلباء کی جملہ تعداد محض20 تھی،آج یہ اسکول 370 طلباء سےبھری ہوئی ہے۔دراصل معلم صہیب بیگ نے اسکول میں صرف10 سے5 کے فارمولے پر کام کرنے کے بجائے بچوں کی بہترین تعلیم وتربیت کیلئے اقدامات اٹھائے اورآٹھ سال سے پہلے انہوں نے یہاں علم الحساب کے درس کیلئے باقاعدہ طور پر ایک لیابریٹری بنائی جس میں انہوں نے بچوں کے درس کیلئے ہر طرح کے تجربے کرنے کاموقع دیا۔یہ تجربہ گاہ ایک ایسی تجربہ گاہ ہے،جسے دیکھ کر کوئی بھی حیرت زدہ ہوجاتاہے،صرف لیاب بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ لیاب کااستعمال کرنا بچوں کو اُس کا استعمال سکھانا،بچوں میں ذوق پیداکرنا اور اس تجربہ گاہ کا فائدہ دوسروں تک پہنچانا یہ بھی بہت ہی اہم کام ہے،اس کا م کو معلم صہیب بیگ نے بخوبی انجام دیاہے۔اسکول کی خاصیت یہ ہے کہ پچھلے پانچ سا لوں سے اس اسکول کے طلباء ریاستی سطح پر ٹاپ10 میں شامل ہورہے ہیں اور ہر سال تین تا چار بچے ضلعی و ریاستی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے ضلعی وریاستی سطح پر ایوارڈ کے مستحق قرار دئیے جارہے ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ معلم صہیب بیگ نے میاتھس کی اس لیاب کو اپنے ذاتی خرچ سے ترتیب دیاہے،اس کا اندازاً خرچ3تا4 لاکھ روپئے ہے اور یہاں موجود نمونے،اشیاء خود طلباء اورمعلم صہیب بیگ نےبنائے ہیں۔جہاں نجی تعلیمی اداروں میں اسمارٹ کلاس کے نام پر ہزاروں روپئے بچوں سے وصول کئے جاتے ہیں،وہیں اس اسکول میں اسمارٹ کلاس کے آلات خود طلباء اور معلم صہیب بیگ نے بنائے ہیں،اتناہی نہیں اس اسکول کے معیارکو بڑھانے کیلئے اسکول کے تمام اساتذہ مل کر کام کررہے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے طلباء قومی سطح پر منعقد ہونے والے این ٹی ایس ای اور این ایم ایم ایس امتحان میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کررہے ہیں۔این ایم ایم ایس امتحان میں ہر سال15تا30 طلباء کامیابی حاصل کررہے ہیں،جس کی وجہ سے یہ طلباء ماہانہ1000 روپئے کا وظیفہ بھی حاصل کررہے ہیں۔معلم صہیب بیگ کا کہناہے کہ این ایم ایم ایس اور این ٹی ایس ای امتحان میں کامیاب ہونے والے طلباء آگے چل کرکسی بھی مقابلہ جاتی امتحان میں آسانی کے ساتھ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور ان میں اس قدر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے کہ وہ بڑے امتحانات میں پوری ہمت کے ساتھ شرکت کرسکتے ہیں۔معلم صہیب بیگ کا کہناہے کہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے بڑے اسکولوں میں داخلہ لینا ضروری نہیں ہے بلکہ ایک ٹیم ورک کی ضرورت ہے اور اس ٹیم میں طلباء،اساتذہ اور والدین کی محنت ضروری ہے،صرف طلباء کی محنت سے پوری کامیابی نہیں مل سکتی بلکہ اساتذہ کی ایمانداری اور والدین کی قربانی بھی ضروری ہے،تب جاکر طلباء کامیاب ہوسکتے ہیں۔ہماری اسکول سے جو بچے پڑھ کر گئے ہیں اُن میں سے کئی طلباء اب انجینئرنگ اور میڈیکل سائنس میں داخلے لے چکے ہیں یہ صرف ان کی بنیادی تعلیم کو مضبوط کرنے کی وجہ سے ممکن ہواہے۔ان کاکہناہے کہ انہوں نے جو میاتھس لیاب بنائی ہے وہ آج ساری ریاست کیلئے ایک نمونہ ہے،ریاست کے کئی اسکول و کالجوںکے طلباء واساتذہ اس لیاب کا دورہ کرنے کیلئے آرہے ہیں اور اپنے تعلیمی اداروں میں اس کا قیام کررہے ہیں جو میرے لئے شرف کی بات ہے،اس کے علاوہ مجھے ریاستی سطح کا بہترین معلم کاایوارڈبھی ملاہے،مگر میرا حقیقی ایوارڈ میرے طلباء کی کامیابی ہے۔معلم صہیب بیگ اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ اسکول میں موجود تمام اساتذہ میں ہربار یہ جوش رہتاہے کہ ان کے مضمون میں بھی طلباء امتیازی نمبرات کے ساتھ صد فیصد کامیابی حاصل کریں،اس کیلئے اساتذہ سال کے آغاز میں ہی طلباء کیلئے انعامات کا اعلان کرتے ہیں جس میں ہزاردو ہزار روپئے کے نقد انعامات شامل ہیں،اس سے بچوں میں انعام حاصل کرنے کی خواہش جاگتی ہےا ور وہ خوب محنت کرتے ہیں۔کیرے بلچی کی اس سرکاری اردو ہائی اسکول کو دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ سرکاری اسکول نہیں بلکہ پرائیوئٹ اسکول ہے جہاں پر بچے شناختی کارڈ سے لیکر بہترین یونیفارم کا استعمال کرتے ہیں اور ان کی حاضری کتابوں کیلئے آن لائن ہوتی ہے،پروگریس کارڈ کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ پر والدین کوبچوں کا رپورٹ کارڈ پہنچایاجاتاہے،جوتمام تعلیمی اداروں کیلئے ایک نمونہ ہے۔