گیمبیا میں 66 بچوں کی ہلاکت کا سبب؛مبینہ طور بھارتی دوا ساز کمپنی کا کھانسی کا شربت ہو سکتا ہے: عالمی ادارہ صحت

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
نیویارک:۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ گیمبیا میں گردوں کے زخموں کی وجہ سے درجنوں بچوں کی ہلاکت کا تعلق مبینہ طور پر بھارت کی ایک دواساز کمپنی کے تیار کردہ کھانسی اور نزلے کے آلودہ شربت سے ہو سکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانام گیبریئس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کا اادارہ بھارتی ریگولیٹرز اور نئی دہلی میں قائم، دوا سازکمپنی میڈن فارماسیوٹیکلز کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ لیباٹری کے تجزیے نے کھانسی کے علاج کے لیے بنائے گئے اس شربت میں،ڈائی تھیلین گلائکول اور ایتھیلین گلائکول کی ناقابل قبول مقدار کی تصدیق کی ہے، جو استعمال کیے جانے کی صورت میں زہریلی ثابت ہو سکتی ہے۔دوا ساز کمپنی میڈن نے عالمی ادارہ صحت کیالرٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا کو رائٹرزکی جانب سے کالز اور پیغامات کا جواب نہیں دیا گیا۔بھارت کی وزارت صحت نے بھی فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔خیال رہے کہ بھارت میں بڑے پیمانے پر جنیرک دوائیں تیار کی جاتی ہیں جنہیں کم قیمت ہونے کے باعث لوگ ترجیح دیتے ہیں۔ یہ دوائیں بیرونی ملکوں کو بھی بھیجی جاتی ہیں۔بھارت میں بڑے پیمانے پر جنیرک دوائیں تیار کی جاتی ہیں جنہیں کم قیمت ہونے کے باعث لوگ ترجیج دیتے ہیں۔ یہ دوائیں بیرونی ملکوں کو بھی بھیجی جاتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے میڈیکل پروڈکٹ الرٹ جاری کیا ہے جس میں ریگولیٹرز سے، میڈن فارماسیوٹیکل، کی پروڈکٹس کو مارکیٹ سے ہٹانے کے لیے کہا گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے اپنے انتباہ میں کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان مصنوعات کو بے ضابطہ مارکیٹوں کے ذریعے دیگر مقامات پر بھی تقسیم کیا گیا ہو لیکن اب تک صرف گیمبیا میں ہی اان کی نشاندہی کی گئی ہے۔