دارالعلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم مولانا قاری سید عثمان منصورپوری کا انتقال

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی: ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے سینئر استاذِ حدیث و معاون مہتمم، جمعیۃ علماء ہند کے صدر، امیرشریعت اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے داماد مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کا آج یہاں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ پندرہ دنوں سے بیمارتھے اور گوڑگاَؤں کے ایک پرائیویٹ میں زیر علاج تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ پسماندگان میں دو بیٹے مفتی سید سلمان منصوری اور مفتی سید عفان منصوری اور ایک بیٹی ہے۔ ان کی جسد خاکی کو دہلی سے دیوبند لے جایا جائے گا جہاں مزار قاسمی میں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔ان کی جسد خاکی کو جمعیۃ علمائے ہند کے صدر دفتر دہلی رکھا گیا ہے جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور اس کے بعد پھر جسد خاکی دیوبند لے جائی جائے گی۔ان کے انتقال کی وجہ سے علمائے دیوبند، دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علمائے ہند کا عظیم خسارہ ہوا ہے جس کی تلافی مشکل نظر آرہی ہے۔خاندانی ذرائع کے مطابق قاری عثمان نے جمعہ کو سوا ایک بجے آخری سانس لی۔ تقریباً 15 روز سے دیوبند میں گھر پر ہی زیر علاج تھے۔ دو روز قبل گروگرام کے ایک نجی ہسپتال میں داخل کرائے گئے تھے۔ان کی پیدائش ضلع مظفرنگر کے قصبہ منصور پور میں 12اگست 1944کو ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم آپ نے ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کی اور حفظِ کلام اللہ والد مرحوم کے پاس کیا۔ پھر فارسی درجات سے دورہئ حدیث تک مکمل تعلیم مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں حاصل کی اور 1965 میں فراغت حاصل کی۔ ہمیشہ امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوتے رہے۔ 1966ء میں شیخ القراء حضرت قاری حفظ الرحمن صاحبؒ اور قاری عتیق صاحبؒ سے تجوید و قرأت کا فن حاصل کیا۔ ادیبِ اریب مولانا وحید الزماں کیرانویؒ سے عربی زبان و ادب میں کمال حاصل کی ور امیر الہند حضرت مولانا سیّد اسعد مدنیؒ سے سلوک و معرفت کی تکمیل کی اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔