مدرسوں کیلئے اب آن لائن چندوں کا دھندہ،شمالی ہند سے جنوبی ہند میں کیاجارہاہے رابطہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔مدرسوں،مسجدوں اور فلاحی اداروں کیلئے اب تک سفیروں یا نمائندوں کے ذریعے سے چندے کروائے جاتے تھے،ان سفیروں کے پاس مدارس،مساجد اور فلاحی تنظیموں کے تصدیق نامے موجود رہتے ہیں،باوجود اس کے اب بھی چالیس فیصدکے قریب لوگ نقلی دستاویزات بناکر مدرسوں،مسجدوں او رفلاحی تنظیموں کے نام پر چندے وصول کیاکرتے ہیں ۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب مدرسوں کے نام پر ہائی ٹیک فراڈ بھی شروع ہوچکاہے،جس سے مسلمانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔شمالی ہند کی ریاستیں جیسے یوپی ، بہار،ہریانہ سے کچھ لوگ اب فون کالس پر لوگوں کو رابطہ کرتے ہوئے اپنے مدرسوں کی مشکلات کو بیان کرتے ہوئے لوگوں سے چندہ مانگ رہے ہیں،جن میں بیشتر تو نقلی چندہ خورہیں،بعض کچھ علماء مدارس کے ذمہ داران تو ہیں ہی مگرجس طرح سے بڑے پیمانے پر ملک بھرمیں آن لائن چندے وصول کئے جارہے ہیں اُس کی ضرورت شائد ہی اُن مدرسوں کو نہیں ہے۔باوجود اس کے چندے کا دھندہ عروج پر ہے۔رمضان کے مہینے میں ایسے ہی کچھ لوگ فون پررابطہ کرتے ہوئے لوگوں سے ان کے مدرسوں اور فلاحی تنظیموں کیلئے چندے مانگ رہے تھے،جس کیلئے وہ خوبصورت ڈیزائن کردہ بروچرس،پمفلٹ اور کتابچے سوشیل میڈیا پر جاری کررہے تھے اور گذارش ہورہی تھی کہ زکوٰۃ اور فطرے ان کے اداروں کو دئیے جائیں۔اس کے بعد بقر عیدکے موقع پر فون اور واٹس ایپ پر یہ کہہ کر رابطہ کیاگیاکہ اُن کے علاقوں میں غربت زیادہ ہے،اس لئے اجتماعی قربانی کانظم کیاگیاہے،اس اجتماعی قربانی کو انجام دینے کیلئے مالی تعائون درکاہے۔بہت سے لوگ ان گذارشات اور درخواستوں میں پھسل کر اچھے چندے دیتے ہیں،جس کا فائدہ ان چندہ خوروں کوہورہاہے۔ رمضان اور بقرعیدکے بعد کچھ لوگ اب جیل میں بند علماء کا حوالہ دیتے ہوئےیہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ مدرسے اُن کی نگرانی میں چل رہے تھے،چونکہ اب وہ جیلوں میں ہیں ، اسلئے ان مدرسوں کی کفالت کرنا مشکل ہے۔یہ لوگ بالکل بینک فراڈ کی طرح لوگوں سے بات کررہے ہیں اور لوگوں کو الجھانے میں کامیاب بھی ہورہے ہیں،اس سے محتاط رہنے کی بے حد ضرورت ہے۔کیسے ملتا ہے نمبر؟:۔چونکہ موجودہ دور سوشیل میڈیاکا دورہے اور ہر آدمی کسی نہ کسی طریقے سے کسی واٹس ایپ ، ٹیلی گرام یا فیس بُک گروپ سے جڑاہواہے،جس گروپ میں کسی شخص کو سرگرم دیکھاجاتاہے اُن نمبروں کو ٹھگ نوٹ کرتے ہیں،پھر بعدمیں ان سے رابطہ کرتے ہوئے ایک طرح سے ذہنی کشمکش میں ڈال دیاجاتا ہے ۔ سوشیل میڈیاہی ان لوگوں کاٍ نمبر حاصل کرنے کاآسان طریقہ ہے۔ایک گروپ سے اگر دس لوگ بھی اس چندہ مارکیٹنگ پلاننگ سے متاثر ہوجاتے ہیں تو سمجھ لیں کہ روزانہ پانچ تا دس ہزارروپئے کی کمائی بغیر کسی مشقت کے ہوجاتی ہے،اسی طرح سے ماہانہ اچھی آمدنی خداکے نام پر ہوجاتی ہے،نہ یہ بھیک میں شمارہوتی ہے نہ ہی چندے میں،بلکہ مارکیٹنگ انکم کہاجاتاہے۔۔۔۔۔۔۔