ہوناور:۔سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن(سی بی آئی )نےہوناور کی عدالت میں پریش میستا موت معاملے کو لے کر تفصیلی رپورٹ داخل کرتےہوئےکہا ہے کہ ’ پریش میستا کا قتل نہیں ہواہے ‘ ۔معاملے کے سبھی ملزموں کو الزام سے بری کرتےہوئے انہیں رہا کرنےکی اپیل کی ہے۔سی بی آئی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں 8دسمبر 2017کو کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اس سےمنسلک لی گئی دوسری رپورٹ ، لیباریٹری کی رپورٹ، سی سی ٹی وی کیمروں کے کلپس، عوام کے بیانات اور دیگر واقعاتی ثبوتوں کی تفصیلات کو درج کیاہے۔ کہا ہے کہ ’پریش میستا کےجسم پر ہتھیاروں سے حملہ یا کاٹے جانےکے کوئی زخم نہیں ، ان کے جسم میں زہر یا نشیلی عنصر بھی نظر نہیں آئے،پریش میستا کو کسی نے قتل نہیں کیا ہے۔موت کے منظر کو پیش کرتےہوئےسی بی آئی نےکہاہےکہ ’ 2017دسمبر 6کی رات شٹی کیری کے قریب ہندو مسلم گروہوں کے درمیان سنگھرش کے دوران دوڑکر جاتےہوئے اچانک پیر پھسل کر تالاب میں گر کر پریش میستا کی موت ہوئی ہوگی۔ اپنی رپورٹ میں سی بی آئی نے درج کیا ہےکہ پریش میستا معاملے کو لےکر جتنےبھی ملزم ہیں انہیں الزام سے بری کرنے کی عدالت سے اپیل کی ہے۔خیال رہے کہ پریش میستا کی نعش 2017دسمبر 8کو شہر کے شٹی کیری تالاب میں پائی گئی تھی ۔ ان کے والد نے پولس تھانے میں شکایت کرتےہوئےالزام لگایا تھا کہ میرے بیٹے کو قتل کرنےکے بعد تالاب میں پھینکا گیا ہے۔ معاملے کو لےکر پولس نے جما ل آزاد انیّگیری ، محمد آصف شیخ محمد رفیع، سید فیصل سید ہاروں ، شیخ امتیاز شیخ غنی اور سلیم جعفر شیخ کے خلاف کیس درج کیا تھا اور معاملے کو لےکر ضلع بھر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکے تھے۔
پریش میستا موت کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ لیکر والد نے کی وزیرا علیٰ سےملاقات
ہوناور:۔پریش میستا موت کامعاملہ دوبارہ سی بی آئی کی جانب سے جانچ کرانے کا مطالبہ لےکر پریش میستا کے والد کملاکر میستا نے وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی سےملاقات کی۔اپنے بیٹےکی موت کے متعلق سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں داخل کردہ تفصیلی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتےہوئے کملا کر میستا نے بنگلورو کے ودھان سودھا میں وزیرا علیٰ بسوراج بومائی سےملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے بیٹے کی موت کو سی بی آئی نے شواہد نہ ہونے سے طبعی موت کہنے پر ناراضگی کا اظہا رکرتےہوئے کہاکہ میرے بیٹےکی موت کے معاملے کو دوبارہ سی بی آئی کے ذریعے جانچ کرائی جائے ۔ مطالبے کو لےکر انہوں نے وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم سونپا۔میمورنڈم میں کہاگیا ہے کہ سی بی آئی کی جانب سے بی رپورٹ داخل کئے جانے سے میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ جب میرے بیٹے کی موت کامعاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا تھاتو چار مہینے ہوگئے تھے کئی سارے شواہد مٹائے گئےہونگے۔ اس لئےمزید گہرائی کے ساتھ جانچ کرنےکی ضرورت ہے۔کملاکر میستا کی باتوں کو سماعت کرنےکے بعد وزیر اعلیٰ نے کہاکہ حکومت آپ کے دکھڑےکو سمجھتی ہے ، آپ کی اپیل پر غورکریں گے اور اس سلسلےمیں مناسب اقدام اٹھائےجانےکا تیقن دیا۔
