ریاستی حکومت غریب عوام کی جیب کاٹنے پر آمادہ ہوچکی ہے : سدارامیا

اسٹیٹ نیوز
بنگلورو:۔سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارمیا نے ریاستی حکومت کی طر ف سے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں سے ماہانہ 100روپے وصول کرنے ریاستی حکومت کے اعلان کی سخت مذمت کی ہے۔ اخباری نمائندو ں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آنے والے غریب بچوں پر بد عنوان بی جے پی حکومت کی نظر بدپڑگئی ہے۔ 40 فیصد کمیشن کے نام پر ریاستی خزانہ خالی کر چکی حکومت اب غریب بچوں کے والدین کی جیب کاٹنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت جس دیوالیہ پن کا شکار ہو چکی ہے اسے دیکھ کر انہیں ترس آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور اقتدار میں سرکاری اسکولوں کے بچوں کو دوپہر کا گرم کھانا، دودھ، یونی فارم، جوتے،موزے، ودیا سری اسکیم کے تحت مالی امداد، مفت ہاسٹل وغیرہ کی سہولت مہیا کروائی گئی ان تما م سہولتو ں کو چھین لینے کے بعد اب حکومت ان غریب بچوں کے والدین سے ماہانہ رقم اینٹھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل دم، طاقت اور جرأت کی بات کرنے والے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کو سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء کو سہولت فراہم کرنے کے لئے رائج فلاحی اسکیموں کے لئے فنڈس مہیا کروانے کی جرأت دکھانی چاہئے۔اسکولوں میں بہتر سے بہتر تعلیم سے آراستہ کرنے کے انتظامات کرنے میں ناکام بی جے پی حکومت کمسن بچوں کے ذہنوں میں تعصب کا زہر بھرنے کے لئے ترشول بانٹنے کے لئے اسکولوں میں منظوری دے رہی ہے۔ انہوں نے مانگ کی کے طلباء کے والدین سے ماہانہ رقم وصول کرنے کے حکم نامہ کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔