تروواننت پورم۔۲۴؍اکتوبر: کیرالہ میں پی وجین حکومت اور گورنر عارف محمد خان کے درمیان نو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی تقرری کو لے کر تنازع ہوا ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ میں آج شام اس معاملہ کی سماعت ہوئی۔ عارف محمد خان کے متنازعہ حکم کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست پر دیوالی کی شام کی خصوصی سماعت میں عدالت نے کہا کہ گورنر کو وجہ بتاؤ نوٹس کے تحت حتمی حکم تک وائس چانسلر عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں ۔دیوالی کی شام ایک خصوصی سیشن میں کیرالہ ہائی کورٹ نے گورنر عارف محمد خان کے متنازعہ حکم کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ گورنر کو شوکاز نوٹس کے تحت وائس چانسلر حتمی حکم جاری ہونے تک عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔گورنر نے ابتدائی طور پر کیرالہ حکومت کے ذریعہ آزادانہ طور پر مقرر کئے گئے وائس چانسلروں کو آج صبح یعنی بروز پیر کی صبح30.11بجے تک عہدہ چھوڑنے کو کہا تھا۔کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے پیر کو نو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو نوٹس جاری کیا ،جنہوں نے ان کی ہدایات کے مطابق پیر کی صبح 30.11 بجے سے پہلے استعفیٰ بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔عارف محمد خان نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اب باضابطہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نوٹس سپریم کورٹ کے وائس چانسلر کے طور پر کسی بھی تقرری کو غلط قرار دینے کے فیصلے کے مطابق جاری کیا گیا ہے جو کہ UGC کے ضابطے کی دفعات کے برخلاف تشکیل دی گئی سرچ کمیٹی کی سفارش پر ہے۔
