از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
بھارت میں اس وقت لوگ کورونا،بیلاک اور وائٹ فنگس جیسی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیںا ور ہر روزسینکڑوں لوگ ان بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں،مگر بھارت میں اس وقت بیلاک فنگس اور وائٹ فنگس سے زیادہ خطرناک ایک ایسا فنگس بھی ہے جو پورے بھارت کو اندر سے کھوکھلا کررہاہے،نہتے لوگوں کا قتل کررہاہے اور کمزوروں پر ظلم ڈھانے کے ساتھ ساتھ پورے جمہوری نظام کو درہم برہم بھی کررہاہے۔اس فنگس کا نام زعفرانی فنگس ہے جسے ہم اور آپ آر ایس ایس کے نام سے جانتے ہیں اور یہ آر ایس ایس پورے ملک کو تبادہ برباد کرنے کیلئے آمادہ ہوچکاہے۔ملک میں اس وقت فنگس کے امراض کو لیکر لوگ پریشان ہیں،وہیں سنگھ پریوارکے لوگ اس وباء کی دہشت میں بھی ہندو مسلم اور ذات پات کا کھیل کھیل رہےہیں۔اترپردیش کے انائو میں ایک18 سالہ نوجوان جو روزمرہ کی طرح آج بھی اپنے اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ بھرنے کیلئے سبزی کی دکان کھولنے پہنچاتھااورلاک ڈائون کے اوقات کے درمیان ہی تجارت کرتے ہوئے گھر لوٹنا چاہ رہاتھا،اُسے اترپردیش پولیس نے اس قدر پیٹا کہ وہ موت کی نیند سوگیا۔بھارت میں اس وقت سنگھ پریوار کا جو غنڈہ راج چل رہاہے وہ کسی سے چھپا نہیں ہواہے۔لیکن لاک ڈائون کے درمیان جس طرح سے مسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہاہے وہ قابل مذمت ہے۔اس طرح کی سوچ و سرگرمیاں صرف پولیس اہلکاروں میں ہی نہیں بلکہ اُن سیاستدانوں میں ہے جنہوں نےآئین کے نام پر حلف اٹھاتے ہوئے جمہوریت کی بقاء کیلئے کام کرنے کاعزم کیاتھا۔فیضل نامی نوجوان جو اپنی جوانی کے پہلے ہی مرحلے میں سنگھ پریوارکے ہاتھوں شہید ہوا،وہ ساری انسانیت کیلئے شرمسارکرنے والامعاملہ ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جس میں سنگھ پریوارکے لوگوں نے اور پولیس نے مسلمانوں کونشانہ بنایاہے،اس سے پہلے بھی مسلمان کسی نہ کسی طریقے سے شہید ہوتے رہے ہیں۔لیکن ہر بار مسلمانوں سے ہمدردی جتانے والے سیاستدانوں نے مسلمانوں کو دھوکہ ہی دیاہے۔ماضی میں بھی حافظ جنید،پہلو خان،محمد اخلاق جیسے لوگ گروہی تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔آج ہی کے دن ہاشم پوراکے قتل عام کا واقع پیش آیاتھااور آج ہی دوبارہ فیضل کے قتل کا واقعہ پیش آیاہے۔پچھلے دنوں بی جے پی کے رکن پارلیمان تیجسوی سوریا جیسے لوگوں نے بھی زہر پھیلانے کی کوشش کی ہےاوراندھ بھگت لوگوں نے ان کی زہر فشانی پر خاص توجہ دیکر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ لوگ بھلے ہی مرمٹ جائیں لیکن ان کے زہریلے ایجنڈے کامیاب ہوتے ہی رہیں۔افسوس صد افسوس کہ ہمارے پاس ایسی حکمت و مصلحت نہیں ہے جوشجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے قاتلوں کاخاتمہ کرے۔فلسطین کے معاملے پر ایک کہاوت مشہورہوئی ،جس میں ایک عربی دوسرے عربی سے پوچھتا ہے کہ آخرکب مسلمان یہودیوں پر غالب آئینگے،تو دوسرا عربی کہتاہے کہ جب یہودی تمام مسلمان ہوجائینگے۔بالکل اسی طرح سے بھارت میں مسلمان اُسی وقت ان سنگھ پریوارپر غالب آئینگے،جب یہ لوگ مسلمان ہوجائینگے،کیونکہ مسلمانوں پرغیروں سے ہورہے حملوں کاجواب دینے کی سکت نہیں ہے،البتہ وہ خود ایک دوسرے سے لڑنے اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی طاقت رکھتے ہیں۔اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت ہمیں ان ظالموں سے بچالے گی،تو یہ ہماری غلط فہمی ہے،ہماری حفاظت ہمیں خود کرنے کی ضرورت آن پڑی ہے،ساتھ ہی ساتھ ملک میں اس وقت موجود ملی قیادت کی ذمہ داری کو بھی نوجوان نسل کو اپنے ہاتھ میں لینی ہے۔یقیناً بزرگوںکی دعائیں اور تجربے ہر کام میں اہمیت رکھتے ہیں،لیکن اُسے برئوے کارلانے کیلئے نوجوان طاقتوںکی ضرورت ہے۔سفید ریش بزرگ اپنی زندگی کو جن تجربوں کے ساتھ گذار چکے ہیں،اُن تجربوں کو نوجوانوں کی رہنمائی کیلئے استعمال کرتے ہیں تو یقیناً کامیابی ہوگی۔اب سنگھ پریوارکے اڈوانی کو ہی لے لیں ،جب تک اس میں دم خم تھا اُس وقت تک اُسے میدان میں چھوڑاگیا،پھرجب اُس کے بال سفید ہونے لگے تواسے ہٹاکر مودی کو لایاگیا۔مودی نے ملک پر جتنی نحوست طاری کرنی تھی وہ کرلی،اب مودی کے بال سفید ہوتادیکھ کر یوگی کو لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔جب تک مسلمان اپنی سیاسی قیادت کو مضبوط نہیں کرتے،بھلے ہی وہ الگ الگ گروہوں سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں اُس وقت تک ایسے ظالم مسلمانوں پر ظلم کرتے ہی رہیں گے،اور جو یہ کہتے ہیں کہ سب کو مل کر کام کرناہے وہ ممکن عمل نہیں ہے،سب کے گروہ الگ الگ ہوں،اور مقصد ایک ہوجائے تو بڑی کامیابی ممکن ہے۔
