پرتاپ گڑھ: مذہب کے نام پر سڑکوں پر جلوس نکال کر ٹریفک جام کر لوگوں کو پریشان کیا جاتا ہے، لیکن حکومت اس کو سنجیدگی سے لینے کے برعکس سڑکوں پر جلوس نکالنے کی اجازت دے کر عام لوگوں کو پریشانی میں ڈالنے کا کام کرتی ہے۔ سڑکوں پر نکالے جانے والے سبھی مذاہب کے جلوس پر قدغن لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عام لوگوں کو پریشانی سے نجات مل سکے۔ سماج وادی مہاراشٹر کے صوبائی صدر و ممبر اسمبلی ابو عاصم اعظمی یہاں بدھ کی شام شہر پنچایت کٹرہ میدنی گنج واقع شاہی پیلس میرج ہال میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ ملک میں مذہب کے نام پر اب نوٹو پر لکشمی و گنیش کی فوٹو شائع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کیجریوال بی جے پی کی پالیسیوں سے آگے جا کر اب نوٹوں پر بھگوان کی فوٹو لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ یہ آئین مخلاف ہے، کسی بھی سیکولر ملک میں مذہب کی بنیاد پر ایسا کچھ نہیں کیا جا سکتا، جس سے جمہوریت و سیکولرازم مجروح ہو۔ مذہبی پالیسی کی بنیاد پر ملک میں نفرت پھیلانے کا کام کیا جا رہا ہے، جبکہ سبھی مذاہب انسانیت کا درس دیتے ہیں، لیکن جب سے بی جے پی زیر اقتدار آئی ہے، اس کے پاس اور کوئی عوامی مفاد کا ایشو ہی نہیں ہے، وہ صرف نفرت پھیلا کر لوگوں کے درمیاں خلیج پیدا کرنے کا کام کر پولرائزیشن کا کھیل کھیل رہی ہے۔بی جے پی کے لوگ ایک خصوصی مذہب کے لوگوں کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں، مگر حکومت آئین کی پاسداری کر ان پر قانونی کارروائی کرنے کے برعکس انہیں نفرت پھیلانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی نفرت کی سیاست کو سپرم کورٹ نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے حکومتوں پر تنقید کی ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف قدغن لگایا و ایف آئی آر درج کرائی جائے، مگر نفرت پھیلانے والوں کو کسی کا خوف نہیں ہے۔ ہندوستان کا آئین سیکولر بنیادوں پر قائم و دائم ہے۔جمہوری اقدار و مساوات کے ساتھ ایک دوسرے کے لئے تعظیم کے جذبے کو پسند کرتا ہے، مذہبی و سماجی اعتبار سے کسی بھی تفریق کے لئے یہاں گنجائش نہیں ہے۔ دشواری یہ ہے کہ آئین کی قسم کھاکر بھی آئین کی حفاظت کرنے والوں کو ذرا سا بھی خیال نہیں رہتا اور اپنے مفاد کے لئے آئین کی دھجیاں اڑانے میں تاخیر نہیں کرتے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کہ کیا نفرت پھیلانے و سڑکوں پر جلوس نکالنے پر قدغن لگایا جائے۔
