لکھنو:۔ریاست اترپردیش میں مدارس پر متنازعہ سروے گذشتہ 10 ستمبر2022 کو شروع کیا گیا تھا۔ اب سروے مکمل ہو گیا ہے۔ سروے کے مطابق ریاست میں تقریباً آٹھ ہزار مدارس غیر منظور شدہ پائے گئے ہیں۔ سروے میں مدارس کی موجودہ حیثیت بشمول ذرائع آمدنی اور انہیں چلانے والے ادارے کے بارے میں سوالات پوچھے گئے تھے ۔ تاہم اس سلسلے میں 15 نومبر2022 تک تمام ڈی ایم اپنے اپنے اضلاع کی رپورٹ حکومت کو بھیجیں گے۔ ریاست میں غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے 10 ستمبر2022 سے شروع ہوا تھا۔ پیر تک ٹیموں نے سروے مکمل کر کے اپنی رپورٹ ضلع مجسٹریٹس کو بھیج دی ہے۔ سب سے زیادہ غیر تسلیم شدہ مدارس مرادآباد میں پائے گئے ہیں۔بجنور دوسرے نمبر پر اور بستی تیسرے نمبر پر ہے۔ رجسٹرار مدرسہ بورڈ جگموہن سنگھ کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ تقریباً آٹھ ہزار غیر تسلیم شدہ مدارس ملیں گے، لیکن اصل صورتحال ضلع مجسٹریٹس کی رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی، ڈائرکٹر اقلیتی اور رجسٹرار مدرسہ بورڈ کی تین رکنی کمیٹی جو حکومتی سطح پر تشکیل دی گئی تھی۔ اس سروے کا مقصد بنیادی طور پر یہ معلوم کرنا تھا کہ مدارس کی آمدنی کے ذرائع کیا ہیں۔اس کے علاوہ عمارت، پانی، فرنیچر، بجلی اور بیت الخلاء کے کیا انتظامات ہیں۔ نیز یہ بھی معلوم کرنا تھا کہ یہ مدرسہ کون چلا رہا ہے؟اس کے علاوہ شناخت کی حیثیت، طلبہ کی تعداد اور ان کے حفاظتی انتظامات، نصاب اور پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد جیسے مختلف نکات کی چھان بین کی گئی۔
