کیا آہستہ آہستہ کانگریس پارٹی بھی ختم کررہی ہے اسمبلی سے مسلم قیادت؟

Uncategorized
شیموگہ:۔کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس پارٹی نے عرضیاں طلب کی ہیں،جس کیلئے عرضی گذاروں سے دو لاکھ روپئے کاچندہ بھی مانگاہے،جس کی وجہ سے عرضیاں دینے والے کئی خواہشمندایک قدم پیچھے ہٹ چکے ہیں ۔ سب سے زیادہ اثرمسلم عرضی گذاروں پر پڑاہے۔ان تمام درمیان ایک اہم سوال یہ بھی اُٹھ رہاہےکہ کیا کانگریس پارٹی خودبھی مسلم قیادت کو ختم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئی ہے۔پچھلے دو اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کاڈر دکھاکر مسلمانوں کوٹکٹ سے محروم رکھاگیاتھا اور یہ کہاجارہاتھاکہ بی جے پی کو ہراناہے تو مسلمانوں کو قربانی دینی ہوگی،مسلم کانگریسیوں کو ان قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے دوسرے عہدوں کو نوازنے کی شرط کی بنیادپرٹکٹ حاصل کرنے سے انکارکیاتھا۔لیکن نتیجہ یہ نکلاکہ جس بی جے پی کاڈر دکھاکر کانگریس نے دوسرے لیڈروں کو ٹکٹ دی تھی ،اُسی بی جے پی میں کانگریس کے کئی کانگریس کےا راکین اسمبلی شامل ہوگئے۔اس دفعہ بھی کانگریس پارٹی میں مسلم دعویداروں کی فہرست کو بڑی تھی لیکن پہلے ہی رائونڈمیںدو لاکھ روپئے کی شرط نے ان دعویداروں کے حوصلے پست کردئیے۔رہی بات عرضیاں دینےوالے لیڈروں کی جنہیں کانگریس پارٹی ٹکٹ دیگی یانہیں اس کاشبہ ہے ،کیونکہ اس باربھی بی جے پی کاڈر دکھایاجارہاہے۔ماضی میں کانگریس پارٹی ہر ایک ضلع سے کم ازکم ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیاکرتی تھی،لیکن اب یہ رواج ختم ہوتاجارہاہے،اب کانگریس میں مسلمان ووٹ دینے اور دلوانے کیلئے محدود ہوچکے ہیں اور ووٹ لینے کیلئےدوسری ذاتوں اور طبقوں کو اہمیت دی جارہی ہے۔