لاہور:۔پاکستان کی ایک عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں وفاقی حکومت سے اجازت طلب کی گئی کہ وہ 29 سالہ ہندوستانی شہری شہاب چتور کو ویزا جاری کرے، جو پاکستان میں داخل ہونا چاہتا ہے تاکہ وہ حج کے لیے مکہ مکرمہ تک پیدل سفر مکمل کر سکے۔ کیرالہ سے تعلق رکھنے والے شہاب چتور نے گزشتہ ماہ اپنی آبائی ریاست سے واہگہ بارڈر تک 3000 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کیا ہے۔ اب انہیں پاکستان کے امیگریشن حکام نے ویزا نہ ہونے کی وجہ سے روک دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری محمد اقبال اور جسٹس مزمل اختر شبیر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے شہاب کے حق میں مقامی شہری سرور تاج کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی ہے۔ سنگل بنچ نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کا ہندوستانی شہری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی انھوں نے عدالت سے رجوع کرنے کے لیے اپنا پاور آف اٹارنی رکھا ہے۔ کورٹ نے ہندوستانی شہری شہاب کی مکمل تفصیلات بھی مانگی ہیں، جو درخواست گزار پیش نہیں کر سکا۔ بدھ کو ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اپیل قابل سماعت نہ ہونے کی وجہ سے خارج کر دی۔۔اسی ضمن میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے اہلکار نے کہا کہ شہاب نے امیگریشن حکام کے سامنے استدعا کی کہ وہ پیدل حج پر جا رہے ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی 3000 کلومیٹر کا سفر کر چکے ہیں اور انھیں انسانی بنیادوں پر ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ وہ ہندوستانی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھتے پیں اور سعودی عرب پہنچنے کے لیے ٹرانزٹ ویزا کے لیے منتظر ہیں۔لاہور کے رہائشی درخواست گزار تاج نے دلیل دی کہ جس طرح پاکستان حکومت بابا گرو نانک کے یوم پیدائش اور دیگر مواقع پر متعدد ہندوستانی سکھوں کو ویزے جاری کرتی ہے، اسی طرح اسے شہاب کو بھی ویزا دینا چاہیے۔ تاج نے التجا کی کہ شہاب نے کیرالہ سے اپنا پیدل سفر شروع کیا، ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے اور انہیں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی آخری منزل تک پہنچ سکیں۔تاج نے لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا جس نے گزشتہ ماہ ہندوستانی شہری کے لیے ریلیف کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
