داونگیرے:۔بڑا شاعر زماں و مکاں کی سرحدوں میں مقید ہوکر نہیں رہتا اور اس کا پیغام سب کے لیے ہوتا ہے اورہر زمانے کے لیے ہوتا ہے۔کسی فنکار کو خانوں میں بانٹنا مناسب نہیں ہے۔علامہ اقبال ؔ کسی ایک خطہ اورکسی ایک قوم و ملک کے شاعر نہیں ہیں۔ان کو شاعرِ مشرق اور شاعر اسلام کہنا ان کے ساتھ سراسر نا انصافی ہوگی۔علامہ اقبال ؔ کا ہر ایک شعراپنے اندر آفاقی پیغام رکھتا ہے اور وہ ہر ایک کے لیے ہے۔ان کا ایک ایک شعر معنی و مفہوم کا سمندر ہے اور ان کے اشعار کا استعمال مساجد کے منبروں سے لے کر پارلیمنٹ تک ہر جگہ ہوتا ہے۔’’ترانۂ ہندی‘‘ سے اچھا ترانہ اور ’’بچے کی دعا‘‘ سے اچھی دعا دنیا کی کسی زبان میں آج تک نہیں لکھی گئی ۔ ان خیالات کا اظہار سید سیف اللہ نے یومِ اردوکے موقع پر اپنے خطاب میں کیا ۔ ملّت تعلیمی ادارہ کے زیرِ اہتمام یس کے اے ہیچ ملّت پری یونیورسٹی کالج داونگیرے میںیومِ اردو اورمشاعرہ کی تقریب منعقد کی گئی ۔جس کی صدارت ادارہ کے بانی اور اعزازی سکریٹری سید سیف اللہ نے انجام دی۔شعراء میں ڈاکٹر داؤد محسن کے علاوہ کے ۔ محمد غوث پیر ہمدرد ، سرقاضی سید قمرالدین قمر ، سیدعزیزالرحمٰن شاہد ہری ہر ، بشر بیجاپوری چتلدرگ ، سید منیر احمد دل شریک رہے ۔ تقریب کاآغاز ثریا بانوپی یوسی سال دوم کی حمد باری تعالیٰ اورصبیحہ کی نعت سے ہوا ۔ثانیہ تاج نے ’لب پہ آتی ہے دعا نظم سنائی۔مہمانوں کا استقبا ل شکیل احمد طاہر نے کیا ۔اس کے بعد علامہ اقبالؔ کا ترانہ ہندی مہر تاج اور ساتھیوں نے بہترین انداز میں گایا گیا۔صالحہ بانونے غزل سنائی ،کبریٰ بانو نے علامہ اقبال پر تقریر کی اور عائشہ صدیقہ نے نظم سنائی۔سید سیف اللہ نے مزید کہا کہ دنیا میں ان گنت زبانیں اور بولیاں رائج ہیں اور ہر ایک فرد کو اپنی مادری زبان پیار ہوتی ہے۔لہذا دوسری زبانوں والوں کو دیکھ کر ہمیں اپنی زبان کی بقا و بحالی اور ترقی کے لئے کچھ کرنا ہے۔ جس کے لیے اردو سیکھنا اور پڑھنا ضروری ہے ۔ساتھ ہی محنت کرنی ہے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی نفسانی خواہشات کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن نے اپنے خطاب میںعلامہ اقبال ؔ کے کلام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے کلام میں اتحاد و اتفاق،امن و سلامتی ،مرد ِ مومن کی صفات ،خودی کا پیغام ،عشقِ خداوندی، درس انسانیت اور عرفانیت پائی جاتی ہے۔ان کا پیغام اخوت و بھائی چارگی کا ہے ۔جس کے ذریعہ موجودہ دور میں بہت سے کام لئے جاسکتے ہیں۔خصوصی طور پر علامہ اقبال کی شاعری کا منبع قرآن و احادیث ہے اور ان کا محور نوجوان ہیں۔اس کے بعد مشاعرہ کا آغاز ہوا جس کی صدارت کے ۔ محمد غوث پیر ہمدردنے کی سیدعزیزالرحمٰن شاہد ہری ہر اوربشر بیجاپوری چتلدرگ مہمانان خصوصی رہے۔ڈاکٹر داؤد محسن ، کے ۔ محمد غوث پیر ہمدرد ، سرقاضی سید قمرالدین قمر ، سیدعزیز الرحمٰن شاہد ہری ہر ، بشر بیجاپوری چتردرگ ، سید منیر احمد دل نے اپنے اپنے منتخب اور بہترین کلام سے طالب علموں اور اساتذہ کو محظوظ کیا۔خصوصی طور پرطالب علموں نے اس مشاعرہ کا بہت لطف اٹھایا۔ان دونوں تقاریب میں یم عبدالجبار ،سید علی اڈمنسٹریٹر ملت تعلیمی ادارہ جات حاضر رہے۔ملت کالج کے لکچررز میںشیوانند، یاسمین کوثر ، صبیحہ بانو، مبین تاج ، افتخار احمد ، کاشف اللہ شریف ، محمدعمران، اصفیا بانو، سلمہ بانوکے علاوہ شکیل احمد طاہر ، کلیم اللہ خطیب ، رشید احمد کے ساتھ ساتھ عما ئدینِ شہر اور ملّت تعلیمی ادارہ کے طالب علموں کی کثیر تعداد موجود رہی۔پی یو سی سال دوم کی طالبہایمن ثانیہ پی یو سی سال دوم نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اوریاسمین کوثر اردو لکچرر کے شکریہ پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
