اردو میں تعلیم حاصل کرنے سے ہمیں ہماری تہذیب کا پتہ چلتا ہے:مبین منور٭اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری پہچان اور ثقافت ہے:ریاض محمود٭اردو ختم نہیں ہورہی ہے بلکہ ہم اردو سے دور ہورہے ہیں: عبید ا للہ
شیموگہ:۔ انجمن ترقی اردو ہندشاخ شیموگہ کی جانب سے آج شہرکے قدوائی انگلش اسکول کے اقبال ہال میں جشن یوم اردو منایاگیاجس میں مہمان خصوصی کرناٹکا اردو اکادمی کے سابق چیرمین مبین منورنے اپنے خطاب میں کہاکہ سب سے پہلے ہم نے اپنی تہذیب کو بھول چکے ہیں اور ہماری روزمرہ کی زندگی سے اردو کوناپید کرچکے ہیں جس کے ہم خود ذمہ دار ہیں ،اردو میں تعلیم حاصل کرنے سے ہمیں ہماری تہذیب کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ اردو صرف میری اور آپ کی زبان نہیں ہے بلکہ اردو زبان ہمارے ملک ہندوستان کی ہےلیکن موجودہ دور میں اردو کو مخصوص ایک مذہب وطبقے سے جوڑا جارہا ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ امریکہ کے نیویارک شہرمیں اردو کے آٹھ اخبار نکلتے ہیں ، اور وہاں مساجدکے باہر اردو اخبارات کی تقسیم کی جاتی ہے،اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اردو زبان کو چاہنے والے صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ دنیاکے ہرکونے میں موجود ہیں۔جب تک ہم نے بچوں کو اردو نہیں سکھائینگے تب تک ہمارے بچے نہیں آگے نہیں آئینگے،اگر کامیاب ہوبھی جائینگے تو ان میں ہماری تہذیب وتمدن کا دور دور تک واسطہ نہیں رہے گا۔جلسے میں مزید ایک مہمان انجمن ترقی اردو ہند کے ریاستی صدر عبید اللہ نےکہاکہ انجمن ترقی اردو ہند کو اندرا گاندھی کی حکومت میں مسلسل مالی تعاون ملتا رہا اور اندرا گاندھی نے انجمن ترقی اردو ہند کیلئے زمین بھی مختص کی تھی جس کی مالیت آج دو سو کروڑ روپئے ہے۔ ریاست کرناٹک میں اگر انجمن فعال ہے تو صرف عابد اللہ اطہر کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اردو ختم ہورہی ہے لیکن اردو ختم نہیں ہورہی ہے بلکہ ہم اردو سے دور ہوتے جارہے ہیں ، اردو کی عزت اور وقار ویسے ہی برقرار ہے جیسے پہلے تھی،لیکن ہم خود ارد و زباں سے دور ہورہے ہیں۔ موجودہ حکومتیں یہی چاہ رہی ہیں کہ ملک سے مسلمان ختم ہو جائیں اور ان کی تہذیب وتمدن تباہ ہوجائے اوران کاموں کو انجام دینے کیلئے ہم مسلمان خود ہی حکومتوں کا بھرپور تعاون کررہے ہیں۔افتتاحی کلمات میں ریاض محمودنے بات کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے انجمن ترقی ہند کا آغاز 1903 علی گڑھ میں کیا گیا جس کے پہلے قومی صدر تھامس والکر ارنالڈ تھےاور مولانا عبدالکلام آزاد سکریٹری کے طورپر خدمات انجام دے ر ہے تھے ، اسی طرح انجمن ترقی اردو ہند کی شاخیں ملک بھر میں موجودہیں اور وہ اپنے اپنے سطح پر اردو کی فروغ کیلئے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ریاستِ کرناٹک میں صرف دو انجمنیں کام کررہی تھی، لیکن شیموگہ میں پھر سے انجمن میں جان بخشنے کا کام ادارے کے صدر عابد اللہ اطہر نے کیا ہے۔انجمن ترقی اردو شیموگہ میں پچھلے تیس سالوں سے خدمات انجام دے رہی ہے۔ جس میں مخلتف پروگراموں کا انعقاد کرتے ہوئے اپنا وجود ظاہر کررہی ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ ہماری پہچان ہماری ثقافت ہے اردو زبان کسی ایک مذہب کی نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی زبان ہے جبکہ اردو کو چاہنے والے پوری دنیا میں موجود ہیں۔ اردوزباں ایک تہذیب کا نام ہے ہم سیدھے طور یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہماری مادری زبان اردو ہے لیکن ہم اس کا حق ادا کرنے سے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں ،کیونکہ ہم اپنے بچوں انگریزی سکولوں میں داخلہ دلوا دیتے ہیں لیکن ہماری اپنی مادری زبان سے بچوں محروم کردیتے ہیں جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھگتے گیں۔جلسے کے اختتام پر انجمن کے صدر عابداللہ اطہر نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بیشمار قوتوں سےنوازا ہے ، ان میں سب سے بڑی قوت قوتِ گویائی ہے۔قوتِ گویائی کیلئے زبان ایک بہترین ذریعہ اور اظہارکی ایک بہترین طاقت ہے۔اس جلسے کا مقصدیہی ہے کہ طلباء،والدین اور عوام میں ہماری مادری زبان کی اہمیت اجاگرہو ۔ اپنے گھروں اور آس پاس کے ماحول میں اردو زبان کا بول بالاہو۔ڈاکٹر ریاض محمود نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہاکہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ جو طلباء اردوزبان میں پڑھتے ہیں اُن کی ذہنی قوت دوسرے طلباء کے مقابلے میں زیادہ رہتی ہے،اس کے علاوہ مہلک بیماریوں سے بچنے کیلئے ذہنی طورپر خودبخود قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔یہ نعمت کیا کم ہے جو کسی اور دوسری زبانوں کے پڑھنے والوں کو حاصل نہیں ۔آخرمیں انہوں نے انجمن کے تمام عملے کو اُن کی کارگردگیوں پر مبارکباد پیش کی،طلباء وطالبات اور والدین کو بھی مبارکبادپیش کی۔ جلسےمیں ایس ایس ایل سی اور پی یو سی سال دوم میں 97فیصد نمبرات سے کامیابی حاصل کرنے والے 70 طلباء کو انعامات سے نوازا گیا اور آن لائن قواعد مقابلوں میں حصہ لینے والےطلباء کو بھی انعامات دئیے گئے،ساتھ ہی ساتھ قوم وملت میں اپنی صلاحیتوں کی بنیادپر نام روشن کرتے ہوئے کے اےا یس امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والی نورالہدیٰ بنت ایم اے اعظم راہی اورڈاکٹر نصراللہ کو تہنیت پیش کی گئی ۔جلسے کاآغازجلسے کا آغاز نومان بیگ کی تلاوت کلام سے کیا گیا،نعت کا نظرانہ فاروق شمس نے پیش کیاجبکہ جلسے کی نظامت نومان بیگ نے انجام دی ۔مہمانوں کا استقبال نجات اللہ خان نے کیا۔
