تین طلاق کے غلط قانون کی وجہ سے خواتین خلع کا سہارا لے رہی ہیں:مولانا سیف اللہ رحمانی

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ملک کی مشہور و معروف قدیم دینی دانش گاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں دو روزہ فقہی سیمینار منعقد کیا گیا۔ جہاں طلاق اور خلع کے علاوہ دیگر موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں طلاق اور خلع کے موضوع پر انہوں نے مزید کہا تین طلاق پر حکومت کے ذریعہ قانون بنانے کا معاشرے پر غلط اثر پڑا ہے۔ اس قانون کو مجرمانہ زمرے شامل کر کے زیادتی کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مرد خواتین کو طلاق نہیں دے رہے ہیں اور تین طلاق کے اعداد و شمار میں کمی آئی ہے جب کہ خلع کے اعداد و شمار میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ مرد تین طلاق قانون کی وجہ سے طلاق دینے پر خوف زدہ ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین طلاق لینا چاہتی ہیں لیکن خوف کی وجہ سے وہ علیحدگی اختیار نہیں کرپارہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپسی رضامندی سے خلع کے ذریعہ علیحدگی اختیار کررہی ہیں۔عوامی مقامات پر نماز ادا کرنے کے حوالے سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ موجودہ دور میں اس پر تنازع کھڑا کردیا جاتا ہے لیکن اس سے قبل اس طرح کے حالات نہیں تھے، خود ہندو برادری کے لوگ ٹرینوں میں یا دیگر مقامات پر نماز ادا کرنے میں نہ صرف تعاون کرتے تھے بلکہ اس کا احترام بھی کرتے تھے۔ مذہب اسلام نے عوامی مقامات پر نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے اور ہر ایسی جگہ پر نماز ادا کرنے منع کیا جہاں عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔یکساں سول کوڈ اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا موصوف نے کہا کہ ‘یہ قانون ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ کچھ سیاسی افراد اس کی بات کرتے جن کا مقصد سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔ یہ قانون نہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہوگا بلکہ سکھ، بودھ، پارسی یا دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے خلاف ہوگا۔ اگر یہ قانون آتا ہے تو ہم ہر طرح سے مخالفت کریں گے اور عوام سے اپیل کریں گے کہ وہ شریعت پر عمل کریں۔خلع کے سلسلے میں کیرالا ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘پرسنل بورڈ کی لیگل کمیٹی نے اس فیصلے پر غور کیا لیکن اس فیصلے کو سمجھا نہیں جاسکا۔ ظاہری طور پر جو سمجھ میں آیا وہ یہ کہ عدالت نے صرف عورت کی رضامندی پر خلع کا فیصلہ دیا ہے۔ یہ اسلام کے مخالف ہے خلع میں مرد و عورت دونوں کی رضامندی شامل ہونا چاہیے۔