کسان تحریک کے6 ماہ مکمل ہونے پر’یوم سیاہ ‘

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔مرکزی حکومت کے نافذ کردہ زرعی قوانین کی مخالفت میں تحریک کا آغاز کئے ہوئے 6 ماہ مکمل ہوچکے ہیں جس کے پیش نظر آج کسانوں نے اپنے اپنے مقامات پر رہ کرہی سیاہ پرچم لہراتے ہوئے یوم سیاہ منایا ہے۔ مشترکہ کسان مورچہ، کسان یونین کمیٹی نے مرکزی حکومت کے 3 زرعی قوانین کو خارج کرنےکی مانگ کرتے ہوئے دہلی کے سنگھ، ٹرک، غازی پور بارڈر پر 26 نومبر سے ہزاروں کسانوں نے ایک منظم تحریک شروع کی تھی، اس تحریک کا آغاز ہوئے اب 6 مہینے مکمل ہوچکے ہیں۔ مرکزی حکومت کسانوں سے سمجھوتہ کرنے کو ترجیح نہیں دے رہی ہے اورنہ ہی کسانوں کے مخالف ان قوانین کو واپس لے رہی ہے۔ جس کے پیش نظر ملکی سطح پر آج کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا گیاتھا ۔چونکہ اس وقت کوویڈ 19 کی دوسری لہر کے سبب لاک ڈائون نافذ کیا گیا ہے ان حالات میں عوامی ہجوم کا جمع ہونا، ڈپٹی کمشنر یا تحصیلدار دفتروں کے سامنے احتجاج کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا اس اعلان کی حمایت میں کسانوں نے اپنے اپنے گائوں اورگھروں کے سامنے ہی سیاہ پرچم کو لہراتے ہوئے یوم سیاہ منایا ہےاور حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ چاہئے کچھ بھی ہوجائے کسان ان قوانین کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور حکومت پر مسلسل زور دیا جائےگا کہ وہ ان قوانین کو واپس لے اورکسانوں کا تحفظ کرے۔