مرکز شعر و ادب ہبلی کی جانب سےولیؔ کرناٹکی کے شعری مجموعہ’’زعفران‘‘ کا رسم ِ اجراء

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
ہبلی:۔ریاست کرناٹک کے دوسرے سب سے بڑے شہر ہبلی کے مشہور و معروف شاعر ولیؔ کرناٹکی کا دوسرا شعری مجموعہ’زعفران‘ کی رسمِ اجراء کی تقریب رکھی گئی جو سابق وزیر کرناٹک عبدالحکیم ہنڈسگیری کے ہاتھوں عمل میں آئی۔اس کتاب کے اجراء کے موقع پر ڈاکٹر عبدا لکریم (سابق مینارٹی کمیشن چیرمین)، ایم ایم مالگی(ماہر تعلیم)،شاعر کامل کلادگی اور مہیندر سنگھی کے علاوہ پرنسپال ایم ایس ملا، سماجی کارکنان میں مظہر خان، شفیع مدے بہال، خالد احمد جمعدار،الحق پٹھان کے علاوہ شعرائے کرام میں قدیر ناظم سرگروہ، سہیل نظام بربری،رشید شاد، فرید ناصر، حیدر مظہری بلاری، قدیر احمد ہلکوٹی ، مقبول شیخ پونا والے، قاضی غلام رسول، ڈاکٹر افروز کاٹھیواڑی، ایس ایم عقیل شیموگہ اور فرزانہ موجود رہے۔اس موقع پر سابق وزیر کرناٹک اے ایم ہنڈسگیری نے کہا کہ اردو زبان ایک عالمگیر زبان ہے اور اس کی شروعات دکن سے ہوئی۔پہلا دیوان قلی قطب شاہ کی جانب سے نکلا۔ اردو کے پہلے شاعر اور نگابادی سراج ولی کرناٹکی ہی تھے۔یہ زبان ایک پتھر کی جیسی تھی جسے بعد میں تراشا گیا۔ اس کے بعد میر تقی میر، غالب، ظفر، ذوق، مومن اور داغ جیسے شعراء پیدا ہوئے ، جن کے ذریعہ تقریباََ تین سو سالوں میں اردو زبان ابھرنا شروع ہوگئی۔انہوںنے مزید کہا کہ ہمیں زمانہ کے دیگر زبانوں کے ساتھ اردو کو بھی ترجیح دینا ضروری ہے۔ اس موقع پر مشتاق احمد ایس ملا، پرنسپال ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(پالی ٹیکنک) ہبلی نے کہا کہ شہر ہبلی کا شمار کرناٹک کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔دکن کے اس دیار میں اردو شاعری خصوصاََ غزل جیسی نازک صنف سخن کے پھلنے پھولنے کے وہ مواقع نہیں جوکسی دبستانی علاقے کو حاصل ہوتے ہیں۔یہاں زبان و بیان کے تقاضے اکتسابی طور پر پورے کئے جاتے ہیں۔اس کے باوجود یہاں کے شعراء خشک اور بنجر زمین میں شعر و ادب کی وہ آبیاری کرتے ہیں اور سخن کے ایسے گل بوڑے کھلاتے ہیں جن پر دنیائے شعر و ادب کو ناز ہے۔جس کے لئے وہ بجا طور پر مایۂ افتخار کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔اسی قبیلہ سخن وراں میں ایک معتمد نام ولیؔ کرناٹکی کا بھی ہے اور آپ کی قدر و منزلت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آج سے ترپن سال قبل 1968ء میں ہبلی کا پہلا اور یادگار آل انڈیا مشاعرہ اس وقت کی مشہور اے کے انڈسٹری کے احاطہ میں منعقد ہوا تھا اور اس مشاعرہ میں فلمی دنیا کے مشہور اداکار اور اردو کے پرستار اور ادب نواز شری بلراج ساہنی بطور مہمانِ خصوصی شریک رہے۔اور اس ہبلی کے پہلے آل انڈیا مشاعرہ میں ہبلی کے صرف چار شعرائے کرام کو اپنا کلام سنانے کا شرف حاصل ہوا تھا جن میں ولیؔ کرناٹکی بھی ایک ہیں۔بعد ازاں ولیؔ کرناٹکی نے کہا کہ بارہ سال بعد ان کا دوسرا شعری مجموعہ ادبی دنیا کے سامنے آیا ہے۔اس سے قبل ان کا پہلا شعری مجموعہ’مصرے دو چار‘2008ء میں شائع ہوا تھا۔اور یہ شعری مجموعہ ’زعفران‘ جس کے لغوی معنی ہیں کیسری رنگ کا ایک پھول جو بے حد خوشبو دار ہوتا ہے۔ اس نام کو رکھنے کا مقصد یہی ہے کہ اردو ادب کی گلیاروں میں خوشبو مہکتی رہے۔ اس تقریب کی نظامت پروفیسر جاوید خطیب نے کی اور مہمانوں کا تعارف خالد احمد جمعدار نے کیا اور آصف پاچھاپور نے شکریہ ادا کیا۔