بنگلورو:۔ہندوستانی مسلمان بڑی آزمائش کے دور سے گزررہاہے۔ حالات کس قدر متاثر ہیں ہم سب اچھی طرح نہ صرف واقف ہیں بلکہ پریشاں حال بھی ہیں۔ مسلسل مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی وشرانگیزی پورے ملک میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کی جارہی ہے۔ دوسری جانب وطنِ عزیز میں مسلم قیادت کا انحطاط وفقدان عام مسلمانوں کو احساسِ کمتری کی جانب لے جارہاہے جبکہ اغیار کی جانب سے ایک نظام کے تحت پوری قوت کے ساتھ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی و سماجی ، تعلیمی واقتصادی طورپر اتنا کمزور کردیا جائے کہ وہ اس ملک میں اکثریتی طبقے کے محتاج بن جائیں۔ ان خیالات کا اظہار جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا کے صدر مولانا سید تنویر ہاشمی نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالات کی اس سنگینی وحساسیت کومحسوس کرتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ مسلمانانِ ہند اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عرصۂ دراز سے کوشش کی جارہی ہے کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں بحیثیتِ اقلیت مسلمان اپنے اندر سیاسی شعور وبیداری کا جوہر پیداکریں ۔ مگر کئی سالوں کا یہ مشاہدہ بتارہا ہے کہ ہم اس اہم کام میں دیگر اقوام کی بنسبت کافی تنزلی کے شکارہیں۔ مولانا تنویر ہاشمی نے مزید فرمایا کہ بحیثیت خیرامت ہمیں نہ صرف سیاسی طور پر اپنی صفوں میں شعور وبیداری لانا چاہئے بلکہ ہمیں سیاسی قیادت میں دیگر اقوام سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہونا چاہئے۔ ہمارا دین یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ کے ملک میں عدل وانصاف مساوات و رواداری اخوت وبھائی چارہ اور انسانی اقدار کی حفاظت کے لیے سیاسی امور کو احسن طریقے سے انجام دینا چاہئے۔ مگر دور حاضر کی منافرت سے بھری سیاست کی ستم ظریفی اس لائق نہیں ہے کہ اس میدان میں قدم رکھا جائے۔ مگر یہ بھی سچائی ہے کہ مسلمان سیاسی منظر نامے سے الگ ہوجاتا ہے توممکن ہے کہ مکمل طورپر مسلمانانِ ہند کو حاشیے پر کردیاجائے گا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں ایسے سازشی دور میں ملت اسلامیہ کی بقا کی خاطر سیاسی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا ہاشمی نے مزید فرمایا کہ علماء کرام کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں عوام الناس نیز ہرطبقے کی قیادت میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی جانب توجہ کریں اوراس صداقت پر توجہ کریں کہ ہر مسلمان ہندوستان جیسے ملک میں کس طرح اپنی زندگی وبندگی کے خطوط متعین کرتے ہوئے سیاسی استحکام کی جانب اقدام کرے۔ جیسے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، ہرطرح کے اختلاف سے اجتناب کریں، مسجد کو مرکز بناکر دینی وملی مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کریں، مسجد کے ذمہ داران اپنے محلے کی مسجد کے دفتر میں ایک کمپیوٹر سسٹم مع آپریٹرکافوری انتظام کرکے متعلقہ ویب سائٹس کی مدد سے تفصیلات جمع کریں،بالخصوص ووٹر لسٹ میں ناموں کا اندراج ، ووٹر لسٹ میں درج ناموں کی جانچ کاجائزہ لیں، کہیں قانونی طورپر دشواری پیش آئے تو فوری طورپر ذمہ داروں سے رابطہ کریں، نیز مسلم فلاحی تنظیمیں (NGOs) خصوصی طورپر ووٹرلسٹ میں ناموں کے اندراج کی طرف سیاسی پارٹیوں سے بے نیاز ہوکر خصوصی توجہ کریں۔ مسجد ون مومنٹ(Masjid-1 Movement) کو فروغ دینا ناگزیرہے اس لیے کہ یہ مومنٹ مسلمانوں کی زمینی سطح کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کلیدی رول ادا کرتا ہے۔ مولانا تنویر ہاشمی نے مزید ذمہ داران قوم وملت سے التماس کرتے ہوئے فرمایاکہ مقامی مسلم قائدین کو متحد رکھیں اور علماء کرام کی سرپرستی میں حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں ان کی تربیت واصلاح کی نشستیں منعقد کریں۔ اس امر پر توجہ دلائیں کہ قیادت قوم سے ہے نہ کہ کسی سیاسی پارٹی سے۔ قوم مسلم سب سے بڑی ہے، آپ قائد قوم وملک کے بنیں نہ کہ کسی سیاسی پارٹی کے۔ اگر آپ قوم کے لیڈر بنیںگے تو سیاسی پارٹی آپ کی قیادت کو بسر وچشم قبول کرے گی۔ قیادت وہی مخلص ہوگی جو قوم کی فلاح وبہبود کی فکر سے مربوط ہو نیز ملت اسلامیہ کوچاہئے کہ سیکولر غیرمسلم قیادت کی حمایت کریں اور حتی المقدور اس فکر کو عام کریں کہ مسلم ووٹ (Vote) کسی قیمت پر نہ تقسیم ہوںگے اور نہ انہیں کوئی خرید سکتاہو۔ یاد رکھیں کہ ووٹ ایک گواہی اور شہادت ہے جس کا بیچنا یا خریدنا کسی کلمہ گو کے لیے جائز نہیں ہے۔ الیکشن کے دوران خرید وفروخت کا بازار گرم رہتاہے ایسے وقت میں ہمیں چاہئے کہ ہم قوم مسلم کی حیثیت سے احتیاط کریں نیز یہ شعور بھی پیدا کریں کہ بنام مسلمان یابنام سیاسی سیکولر جماعت ہم ان عناصر کو قطعی کامیاب ہونے نہیں دیںگے جو جذباتی تقریریں کر کے مسلم ووٹ بینک (Vote Bank) کو تقسیم کرتے ہوں جس کافائدہ براہِ راست فرقہ پرست قوتوں کو پہنچتا ہو۔ بے جا نعروں اورجذباتی بیان بازی سے گریز کرنا بے حد ضروری ہے۔ یاد رکھیں کہ آنے والے اسمبلی وپارلیمانی انتخابات نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے جمہوری نظام کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ومالک ہیں۔ اگر ہم سیاسی شعور وبیداری اپنی صفوں میں پیدا نہ کر سکے تو اس کا خمیازہ پوری ملت کوبھگتنا پڑے گاجس کے بڑے بھیانک ومہیب اثرات مرتب ہونگے اور ہماری آنے والی نسلیں کبھی ہمیں معاف نہیں کر پائینگی۔
