بنگلورو:۔ملک کے ممتاز ماہرِ تعلیمات جنوبی ہند کے سرسید کہلانے والے ڈاکٹر ممتاز احمد خان بروز جمعرات 27/مئی 2021کی شب اس دارِ فانی سے داربقاء کی طرف کوچ کرگئے۔مُختصر علالت کے سبب کچھ دن پہلے تک ڈاکٹرممتاز احمد شہر کے ایچ پی ایس اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ آخری سانسیں انھوں نے اپنے گھر میں اپنے افرادِ خاندان کے درمیان لیں۔الامین تحریک کے روحِ رواں ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی رحلت سے کرناٹک کے حلقوں میں غم کی لہر چھاگئی ہے۔ڈاکٹر ممتاز احمد خان 6/ ڈسمبر1935ء کو ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی پیدائش ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں ہوئی۔ڈاکٹر ممتاز احمد خان کے والد یوسف اسمعیل خان ایک وکیل اور والدہ سعادت النساء ایک بی اے ڈگری ہولڈر تھیں۔دونوں علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوئے تھے۔تعلیم یافتہ گھرانے سے وابستگی کے سبب ڈاکٹر ممتاز احمد کو بھی ابتداء ہی سے تعلیم کی طرف رغبت رہی اور انھوں نے مدراس یونیورسٹی چنئی سے1963 میں ایم بی بی ایس کیا اور اسٹائلی میڈیکل کالج چنئی سے انھوں نے سرجری میں ایس ایس بی کیا تھا۔ 1966ء میں صرف31سال کی عمر میں ڈاکٹر ممتاز احمد خان نے جنوبی ہند میں تعلیمی انقلاب پیدا کرنے والی تحریک الامین کا قیام کیا۔اس تحریک کے تحت ملک بھر میں 250سے زائد ادارے چل رہے ہیں اور5.2لاکھ سے زائد طلباء ان اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔تعلیمی خدمات کے علاوہ ملت کو سماجی و معاشی شعبہ جات میں بھی آگے بڑھانے کیلئے ڈاکٹر ممتاز احمد خان نے ہمیشہ فکر مند ی کامظاہرہ کیاہے۔ صحت کے میدان میں ملت کو خود کفیل بنانے کیلئے ڈاکٹر ممتاز احمد خان نے الامین کا قیام بنگلور میں اور الامین میڈیکل کالج کا قیام بیجاپور میں کیا۔ریاست کے مختلف حلقو ں سےڈاکٹر ممتاز احمد خان کی وفات پراپنے گہرے رنج و الم ک اِظہار کیاہے اورکہاکہ ڈاکٹر ممتاز احمد خان کا شمار ملک میں بہترین تعلیمی و سماجی خدمات انجام دینے والی شخصیات میں کیا جاتا ہے۔ملک آج ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گیا۔مرحوم نے اپنے دور میں کے تعلیمی اداروں کو فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ڈاکٹر ممتاز احمد خان مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی بہتری کیلئے ہمیشہ سرگرم رہے۔دعا ہے کہ خدائے رحیم وکریم ان کی بال بال مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، نیز پسماندگان کو صبرِ جمیل اوران کا نعم البدل دے‘۔ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے، آمین!۔
