رانچی:۔جھارکھنڈ میں دہلی کے شاردھاقتل سے بھی زیادہ وحشیانہ قتل ہوا ہے- آفتاب نے شردھا کے 35ٹکڑے کئے تھے، لیکن صاحب گنج میں، 25 سالہ دلدار انصاری نے بیوی ربیکا پہاڑین کے الیکٹرک کٹرسے 50سے زیادہ ٹکڑے کئے-کچھ ٹکڑوں کو گھر میں چھپایا، جب کہ دیگر ٹکڑوں کو محلے کے آس پاس ویران جگہوں پر پھینک دیا – جسے کتے نوچ نوچ کر کھا رہے تھے- لوگوں نے کتوں کو انسانی گوشت کھاتے دیکھا تو پولیس کو اطلاع دی- جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا- اب تک پولیس کو 18ٹکڑے ملے ہیں – پولیس سر سمیت دیگر اعضا کی تلاش کر رہی ہے-مقتولہ کا سر ابھی تک نہیں ملا ہے- 22سالہ ربیکا کا تعلق پہاڑیہ قبائلی برادری سے تھا- ربیکا صاحب گنج کے ڈوڈا پہاڑ کی رہنے والی تھی- دونوں نے ایک ماہ قبل ہی محبت کی شادی کی تھی- یہ دلدار کی دوسری شادی تھی- اس بات کو لے کر دلدار کے گھر میں روز لڑائی ہوتی تھی- اس شادی پر ربیکا اور دلدار کے گھر والوں کی منظوری نہیں تھی- ربیکا6 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھی-پولیس کو لاش کے کچھ ٹکڑے ملے ہیں – دلدار انصاری کو بیلہ ٹولہ سے حراست میں لیا گیا ہے- اس کی اطلاع پر پولیس نے آنگن واڑی مرکز سے تقریباً 300میٹر دور مانجھ ٹولہ میں ایک بند مکان سے لاش کے کچھ ٹکڑے برآمد کئے- کچھ ٹکڑے فرش پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ کچھ ٹکڑوں کو بوریوں میں رکھا گیا تھا-جس جگہ سے لاش ملی وہ دلباغ کے ماموں کا گھر ہے- بتایا جا رہا ہے کہ جمعہ کو ربیکا کا گلا کاٹ کر قتل کر دیا گیا تھا- پھر الیکٹرک کٹر سے 50 ٹکڑوں میں کاٹاگیا- واضح رہے کہ ربیکا اور دلدار کا کافی عرصے سے افیئر تھا لیکن دونوں کے گھر والے ان کی شادی کیلئے تیار نہیں تھے- ربیکا کے والد سورج پہاڑیہ اور ماں چندی پہاڑیہ دونوں کے رشتے کی مخالفت کر رہے تھے- ایک ماہ قبل دونوں گھر سے بھاگ کر تھانے پہنچ گئے تھے- یہاں پولیس نے دونوں کی شادی کروا دی- لاش کے ٹکڑے ملنے پر پولیس کو شک ہوا- پولیس دلدار کے گھر پہنچی اور ربیکا کے بارے میں پوچھا- پھر سارا معاملہ سامنے آیا۔
