دہلی: بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن (بی ایم ایم اے) نامی ایک تنظیم نے 20 دسمبر 2022 کو تعداد ازدواج کی حیثیت پر ایک ملک گیر سروے کا نتیجہ جاری کیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیشتر مسلم خواتین تعدد ازدواج کے خلاف ہیں۔ حالانکہ یہ سروے چند سال قبل ہوا تھا مگر کوڈ اور دوسری وجوہات کی بنیاد پرنتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی ہے۔ سروے کے نتائج نے اشارہ کیا کہ تعدد ازواج، عورت کیلئے بہت زیادہ جذباتی صدمے کا باعث بنتا ہے۔ تقریباً 300 خواتین سے بات کی گئی جن میں سے 84 فیصد نے کہا کہ تعدد ازواج ممنوع ہونا چاہیے۔ اس کا اثر ذہنی صحت پر پڑتا ہے۔ اس سے تعلیمی اور معاشی غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیونکہ خواتین اپنی آواز اٹھانے اور منصفانہ سلوک کا مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد انٹرویو دینے والی خواتین نے کہا کہ انہیں دھوکہ دہی،ہتک عزت اور احساس محرومی کا اندیشہ ہے ۔ اس سروے کا عنوان ‘کثیر ازدواجی میں خواتین کی حیثیت اور قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔اسے انجام دیا ہے نورجہاں صفیہ نیاز اور بی ایم ایم اے کی ذکیہ سومن نے جو 2007 سے مسلم عائلی قوانین میں اصلاحات کیلئے کام کر رہی ہیں- حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ 2017 کے سروے کا نتیجہ ہے۔دہلی، راجستھان، ایم پی، گجرات، مہاراشٹر ، کرناٹک، تملناڈو، تلنگانہ، اڈیشہ، مغربی بنگال اور یوپی میں خواتین سے سوالنامے کے ذریعے رائے لی گئی۔ خواتین کو 289 سوالنامے دیئے گئے تھے۔ اس کے بعد پچاس کیس اسٹڈیز مرتب کی گئیں ۔ سروے میں حصہ لینے والی خواتین میں سے بہت سی عورتوں کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کے بارے میں پڑوسیوں یا دوستوں کے ذریعے معلوم ہوا تھا۔ کچھ بیویوں نے اپنے بچوں کی خاطر ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ کچھ اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گئی تھیں ۔ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے رپورٹ کی اشاعت میں چار سال کی تاخیر ہوئی ہے۔ یہ سروے چارسال قبل ہوا تھا مگر درمیان میں کورونا اور لاک ڈائون کے سبب نتائج جاری کرنے میں تاخیر ہوئی۔ صفیہ نیاز کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج آج بھی متعلق ہیں۔ خاص طور پر تعدد ازواج کے موضوع پر سپریم کورٹ میں سوال اٹھانے والی مختلف درخواستوں کے پس منظر میں اس کی اہمیت ہے۔واضح ہوکہ مسلم پرسنل لاایک مسلمان مرد کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ دوسری طرف تعزیرات ہند کے مطابق، یہ دفعہ 494 کے تحت ایک مجرمانہ عمل ہے۔ یہ قانون تعدد ازواج پر پابندی لگاتا ہے، جس سے مذکورہ شوہر کو 7 سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ہندو میرج ایکٹ ، جو ہندوؤں، سکھوں، جینیوں اور بدھسٹوں پر نافذ ہوتا ہے، تعدد ازواج کو ممنوع قرار دیتا ہے ۔ خورشید احمد خان کے کیس کے 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ تعدد ازواج کو مذہب کے اٹوٹ انگ کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، نورجہاں صفیہ نیاز نے کہاکہ مسلم خواتین کو قانونی تحفظ سے کیوں محروم کیا جانا چاہیے جو دوسری کمیونٹیز کی خواتین کو حاصل ہیں ۔ مساوات، انصاف، دانشمندی اور ہمدردی کی عالمگیر اسلامی اقدار مردوں کی کثیر ازدواجی کے بے لگام حق سے میل نہیں کھاتی ۔جب کہ ذکیہ سومن کہتی ہیں کہ رپورٹ کی اشاعت میں کوڈ وبائی بیماری کی وجہ سے تاخیر ہوئی لیکن اس کے نتائج اب بھی متعلقہ ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے ہمارے نتائج کو تسلیم کیا ہے۔ ہم نے 2019 میں تعدد ازواج کی حیثیت کے بارے میں ایک پٹیشن دائر کی تھی اور سپریم کورٹ نے پٹیشن میں ہمارے نتائج کا ذکر کیا تھا۔ 12 دسمبر کو سپریم کورٹ نے اس پٹیشن کے بارے میں مرکزی حکومت کو نوٹس بھیجا تھا۔
