بنگلورو:۔مودی انتظامیہ کے دوران بھارت قرضوں کے معاملے میں وشواگروہوچکاہے،پچھلے 8 سالوں کے دوران98 لاکھ کروڑ روپیوں کا قرضہ ہی مودی حکومت کاکارنامہ ہے۔یوپی اے حکومت کے اختتام پر بھارت کاقرض63583کروڑ روپئے تھے،لیکن اب یہ قرضہ بڑھ کر98 لاکھ کروڑ ہوچکاہے۔محض8سالوں میں قرضے کی شرح40.1لاکھ کروڑ روپیوں تک بڑھ گئی ہے،یہ قرضہ کس کیلئے کیاگیاہے۔یہ سوال کے پی سی سی کےسابق صدر دنیش گنڈورائونے اٹھایاہے۔انہوں نے ٹوئٹر پر اس تعلق سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ حکومت صرف قرضے کررہی ہے،لیکن ان قرضہ جات کوکہاں اور کیسے خرچ کرناہےیہ حکومت کو نہیں معلوم ہے۔ممکن ہے کہ پی ایم کئیرس نامی کسی جعلی اسکیم پر اسے خرچ کیاجارہاہے۔جس وقت ملک میں من موہن سنگھ کی حکومت تھی،اُس وقت لوگوں کو ایل پی جی پر سبسڈی،کھادپر سبسڈی،کم داموں میں پکوان کےتیل دئیے جارہے تھے،اس کے باوجود ملک کا قرضہ 76 لاکھ کروڑ روپیوں سے زیادہ نہیں ہواتھا،لیکن اب تمام سبسڈیاں ختم ہوچکی ہیں،باوجود اس کے ملک کا قرضہ98 لاکھ کروڑ روپیوں پر پہنچ چکاہے،جومودی حکومت کو سوالات کے دائرے میں کھڑا کرر ہا ہے ،بھگتوں کو چاہیے کہ وہ اب اس بھگتی سے باہرنکلیں۔
