شیموگہ :۔بی جے پی میں ہر روز اختلاف رائے تیزی سے ظاہر ہوتا جارہا ہے۔ایک طرف یتنال ،وزیر اعلیٰ کے خلاف بیان دے رہے ہیںتو دوسری طرف کے ایس ایشورپا وزیر اعلیٰ کے ساتھ اسٹیج شیئر نہیں کررہے ہیں۔ گزشتہ روز گووند پورہ کےماڈل ہوم کا نظارہ کرنے کے دوران کورونا کے ضوابطکی کھلی خلاف ورزی کیگئی ہےانکے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔یہ الزام ضلع کانگریس نے لگایا ہے۔ اس سلسلے میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میںڈسٹرکٹ کانگریس کے ضلعی صدر ایچ ایس سندریش نے کہا کہ رکن اسمبلی یتنال وزیر اعلیٰ کی بدعنوانی کی مخالفت کررہے ہیں۔ وزیر ایشورپا نے ریاستی گورنگرکو خط لکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ انتظامیہ میں مداخلت کررہے ہیں۔کل ملا کر بی جے پی ایک ٹوٹے ہوئے گھر کی طرح بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ وزیراعلیٰ کو اقتدار سنبھالنے کا حق نہیں ہے۔ سندریش نے الزام عائد کیا کہ کورونا کے درمیان ریاستی حکومت نے بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی یہ بات خود بی جے پی رکن اسمبلی اور وزراء ہی کہہ رہے ہیں۔گووند پورہ میں آشریہ مکانات لینے کیلئے 3500 عرضیاں داخل ہوئی ہیں، تین سال کا عرصہ گذرچکا ہے لیکن ابھی تک ایک بھی مکان تعمیر نہیں ہوا ہے ۔ فروری میںٹینڈر بلاتے ہوئے 24 مکانات کو ماڈل ہوم کی شکل دیتے ہوئے گذشتہ روز ہزاروں افراد کی موجودگی میں اسکا جائزہ لینے کا موقع دیا گیا ہے۔ ایچ ایس سندریش الزام لگایا کہ گذشتہ روز وزیر کے ایس ایشورپا کی قیادت میں ہوئے اعلیٰ پیمانے والے اجلاس جس میںماڈل ہوم کا جائزہ لینے کیلئے منعقدکیا گیا تھا اس پروگرام میں کورونا کے ہدایتی اصولوں اورضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے لیکن افسوس ہے کہ ضلع انتظامیہ کی آنکھوں میں پٹی بندھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کیلئے ایک قانون اور حکمرانوں کیلئے ایک قانون بن رہے ہیں۔پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئےاپوزیشن پارٹی لیڈریمونا رنگے گوڑا نے الزام لگایا کہ گذشتہ روز منعقدہ ماڈل ہوم آبزرویشن پروگرام نہیں بلکہ بی جے پی کا پروگرام تھا۔جبکہ جس پروگرام کیلئے یہ اجلاس منعقد ہوا ہے وہ کارپوریشن کی آشریہ کمیٹی سے جڑاہوا ہے ، یہاں حکمران پارٹی لیڈروں نےاپوزیشن کودعوت نہیں دی ہے۔اس اجلاس میں نہ صرف کورونا کی خلاف ورزی ہوئی ہے بلکہ آداب کی بھی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ 2017 میں ، غریبوں کو گھر کی تعمیر کیلئے درخواست دینے کیلئےنوٹیفکیشن جاری کیا گیاتھا۔ ہماری حکومت نےہی اس منصوبہ کا آغاز کیا تھا۔لیکن یہاں بھی اپوزیشن لیڈروں نے4 کروڑ تک کی بدعنوانی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
