بھیا دودھ کیلئے پیسے نہیں ہیں،ٹماٹر خریدلو:لاک ڈائون کی وجہ سےقوم ہوا بُراحال،لوگ پریشانیوں میں مبتلا!

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
شیموگہ:۔ٹھیلے پر سبزی فروخت کرنے والانوجوان جب اپنی گاڑی میں محدود ترکاریاں لیکر گھوم رہاتھا تو اُس بے معیاری سبزیوں کو خریدنے والاکوئی نہیں تھا۔اس سبزی کو بیچنے کیلئے وہ نوجوان بے قرار ہورہاتھا،ایک شخص اس سبزی فروش کے پاس سے گذرا تو اُس نے نرم ٹماٹر دیکھ کر لینے سے انکارکردیا۔سبزی فروش نے فوراً کہاکہ ٹماٹر لے لو،بچے کے دودھ کیلئے پیسے نہیں ہیں۔یہ کوئی افسانہ یا فلم کی اسٹوری نہیں بلکہ آج شیموگہ شہرمیں پیش آنے والاواقع ہے،اور اس واقعہ کا کردارکوئی ہیرونہیں بلکہ بےروزگارنوجوان ہے جو اپنےاور اپنی بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے سبزیاں فروخت کررہاہے۔ویسے تو اس کا پیشہ ورکشاپ سے جڑا ہواہے،لیکن ورکشاپ بندہونے کی وجہ سے وہ مجبوراًسبزیاں فروخت کررہاہے۔ایسے انگنت واقعات ،حالات اور مجبوریاں ہیں،جو لوگوںکے سامنے دکھائی نہیں دے رہےہیں،کیونکہ اس وقت کوویڈکی وجہ سے نہایت غریب لوگوں کو کسی نہ کسی طریقے سے امدادمل رہی ہےا ور وہ مانگنے کیلئے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں،مگر متوسط یعنی مڈل کلاس اوراپر مڈل کلاس طبقہ اس قدر مجبور ہوتاجارہاہے کہ وہ مانگ سکتے ہیں نہ کوئی ان کی مددکیلئے آگے جارہاہے۔دراصل مڈل کلاس طبقے کے لوگ ہاتھ پھسارنے کو عیب سمجھتے ہیںاور وہ دکھائوے میں آکر کسی سے کوئی مددلینانہیں چاہتے۔اس کیلئے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ دینے والے باہمی روابط کے ذریعے سے معلوم کریںاور مددایسی کریں کہ لینےو الے کو شرمندگی محسوس نہ ہو۔آج بھی مسلم سماج میں ایک طبقہ ایساہے جو ان سنگین حالات میں دل وجاں سے خدمات انجام دے رہاہے،اپنے مال کو خرچ کرنے کیلئے ایک طبقہ مسلسل جدوجہد کررہاہےاور وہ سماج کے بڑے حصے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہاہے،لیکن مالداروں کا اُس سے حصہ ایسابھی ہے جو اپنے مال کو محفوظ کرنے کی کوششوں میں لگاہواہے۔وہ نہیں چاہتے کہ لوگ ان سے جڑیں اور لوگوں کی مددکرناان کیلئے مجبوری بن جائے۔بہت سارے لوگ ہمارے سامنے ایسے ہیں جو پریشان نہیں لیکن زبان نہیں کھولتے۔کیونکہ مانگنا کی فطرت نہیں ہےاوروہ مانگ کر اپنی کمزوری کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرنانہیں چاہتے۔ایسے لوگوں کی مددکیلئے مسلم سماج کو آگے آنے کی ضرورت ہے،یہ نہ دیکھیں کہ جو شخص مجبورہے اُس کے پاس کیسا گھر ہے ،کیسے کپڑے پہنتا ہے اور کیسی گاڑی رکھتاہے،بلکہ یہ دیکھیں کہ فی الوقت اُس کی آمدنی کے وسائل کیا ہیں،وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کیسے بھررہاہےاور کیسے اُس کے گھر کے اخراجات نکل رہے ہیں؟۔یہ سب معلوم کرنے کیلئے مالدار اور صاحب استطاعت زیادہ دورنہ جائیں بلکہ اپنے گلی کے موذن کا حال پوچھیں،امام کا حال پوچھیں،مکتب کے استاد کا حال پوچھیں،جو ٹیچرس اپنے بچوں کو پڑھارہے تھے اُن کاحال پوچھیں،پڑوسی کاحال پوچھیں ،جو درزی آپ کے کپڑوں کی سلائی کررہاہے اُس کا حال پوچھیں،جس حجام کے پاس حجامت کروارہے تھے،اُس کا حال پوچھیں،آپ کے گلی کے نکڑ پر سبزیاں بیچنے والاہے اُس سے اُس کے کاروبارکے تعلق سے دریافت کریں تو خودبخود مددکیلئے آپ کے ہاتھ اُٹھ جائینگے۔اگر ان کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں کا بھی حال پوچھتے ہیں اور ان کی مددکرتے ہیں تو یہ بہت بڑی بات ہوگی،ان سب کے ساتھ ساتھ گلی محلے میں کوویڈکے مرض میں مبتلا مریض کے گھر پردووقت کا کھانا بھیجیں یاپھر دوائی کیلئے مالی امداد کریں،بھلے وہ سرکاری اسپتال میں کیوں نہ ہو،اُس کیلئے دوائی کا انتظام کریں،اُس کے گھر کاراشن دیںاور اُس کے اپنوں کی ہمت باندھیں تو سارے شہرمیں گھومنے کی ضرورت نہیں پڑیگی!۔آج اُمت کو اسی بات کی ضرورت ہے۔مالدار وں کامزاج یہ ہوتاچلاہے کہ اگر ان کی شان میںقصیدے گانے والے ملیں تو ہی وہ ضرورتمندوں کی مددکیلئے آگے آرہے ہیں۔حالانکہ کئی مالدار تو غیر سیاسی بھی ہیں،باوجود اس کے وہ غریب محلوں و جھونپڑپٹیوں میں جاکر امدادکرنے کے دوران تصویریں لیتے ہوئے یا پھر راشن کٹ پر اپنی تصویریں ڈالتے ہوئے راشن کٹ تقسیم کررہے ہیں۔جبکہ ایک ایسا گروہ بھی ہے جو رضائے الہٰی کیلئے آکسیجن سلنڈ ر کاانتظام کررہاہے،ضرورتمندوں کی مددکررہاہے،مگر کچھ لوگوں کی ان کوششوں سے مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکہ سب کو مل کر اس کام کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔دیکھاگیاہے کہ جب بھی کسی کارِخیرکی بات سامنے آتی ہے تو کچھ مخصوص لوگوں کو ہی اےٹی ایم مشن بنا کر استعمال کیاجاتاہے جبکہ سینکڑوں لوگ چھپے ہوئے ہیں جو سامنے آنانہیں چاہتے۔اگر خود نہیں کرسکتے ہیں توکارِخیر کرنےوالے کئی گروہ سماج میں موجود ہیں،اُن لوگوں کے ذریعے سے ان نیک کاموں کوانجام دیں۔