آخر قوم چندے دیں تو کس کیلئے اور کیوں دیں،اُٹھا ہے سوال؟
شیموگہ:۔شیموگہ ضلع کے مختلف علاقوں میں اوقافی اور ملّی اداروں کی کوئی کمی نہیں ہے،کئی ایسے اوقافی ادارے بھی ہیں جن کی ماہانہ آمدنی لاکھوں میں ہے اوریہ ادارے ماہانہ آمدنی کو سوائے بینک اکائونٹ میں محفوظ کرنے کے اور کسی بھی طرح کا کام کرناہی نہیں چاہ رہے ہیں۔کوویڈ کے ان سنگین حالات میں فلاحی ورفاہی کاموں کیلئے اوقافی ادارے اپنے طور سے فلاحی کام انجام دے سکتے ہیں،اس کیلئے کرناٹکاوقف بورڈکی جانب سے اجازت بھی دی گئی ہے۔مگرشیموگہ شہرکی جامع مسجد،شاہ علیم دیوان درگاہ کمیٹی کے علاوہ کہیں بھی اوقافی اداروں کی جانب سے فلاحی کاموں کیلئے پیش رفت نہیں ہورہی ہے،مسلم ہاسٹل کمیٹی کی جانب سے کوویڈ سینٹرکے تعلق سے پیش رفت ہوئی ہے۔اسی طرح سے ضلع کے مختلف علاقوں سے فلاحی کاموں کو انجام دینے کیلئے الگ الگ تنظیمیں و ادارے کام کرنے کیلئے آگے آچکے ہیں،لیکن اب بھی کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پر مسلمانوں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجود کام نہ کہ برابر ہورہاہے اور لوگ صرف سیاست کرنے پر اڑے ہوئے ہیں۔ضلع کے بھدراوتی تعلقہ ہی اس کی اچھی مثال ہے،جہاں پر مسلمانوںکی کافی بڑی تعداد ہے،اوقافی ادارے ہیں،ساتھ ہی ساتھ گلی گلی میں کمیٹیاں بھی بنی ہوئی ہیں،مگر نہ تو اوقافی اداروں کی جانب سے فلاحی کاموں کیلئے آگے آنے کی کوشش ہورہی ہے نہ ہی یہاں پر موجود کمیٹیاں وادارے لوگوں کی امدادکیلئے آگے آرہے ہیں۔ہاں کچھ کمیٹیاں جن کے اراکین اپنے بل بوتے پر فلاحی کام کرتے ہوئے لوگوں کے مسائل حل کررہے ہیں،مگر اُن کا ساتھ دینے کیلئے بھی یہاں کے اوقافی ادارے آگے نہیں آرہے ہیں۔ایک طرف یہ حالات ہیں تو دوسری جانب کئی تنظیمیں ایسی بھی ہیں جنہوں نے لوگوں سے صدقے،زکوٰۃ وفطرے بھی حاصل کئے ہیں،وہ ان سنگین حالات میں لوگوںکی امداد کرنے کے بجائے لاپتہ ہوچکے ہیں۔بعض لوگوں کا سوال یہ ہے کہ قوم کی کچھ تنظیمیں ایسی ہیں جو زندہ لوگوں کی مددکرنے کے بجائےصرف میتوں کی خدمت کرنے پر مامور ہوچکے ہیں۔لوگ بھوکے مررہے ہیں اور ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ہر کوئی مددکی ذمہ داری ایک دوسرےپرعائدکررہاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ ان سنگین حالات میں مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری ایک دوسرےپر عائد کرنے کے بجائے اپنے اپنے طو رسے حل کرےاوراُمت مسلمہ کو بے یارو مددگار ہونے سے بچائے۔
