گلشن زبیدہ شکاری پور میں سہ روزہ جشن ادب اطفال کی تقریب میں شرکت کیلئے مختلف پروفیسران اور اسکالرس کی آمدشروع

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شکاری پور:۔ شکاری پور میں گلشن زبیدہ کا ماحول ہر طرح سے ادب اطفال کی خوشبو سے معطر نظر آرہا ہے۔ سہ روزہ جشن ادب اطفال، ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی 100 ویں کتاب ’’باغ اطفال‘‘ کی اجرائی تقریب، قومی سیمینار اور بچوں کے ثقافتی پروگرام میںشرکت کی غرض سے پروفیسر حضرات اور اسکالرس کی آمد شروع ہوچکی ہے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے مندوبین سے گفتگو کرنے کو اپنا اعزاز سمجھا۔ میں نے یکے بعد دیگرے پروفیسر ارتضیٰ کریم، سابق ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فراغ اردو زبان دہلی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس دہلی یونیورسیٹی دہلی، پروفیسر دبیر احمد چیرمین مولانا آزاد کالج کولکاتا، پروفیسر مشتاق عالم قادری شعبہ اردو دہلی یونیورسیٹی دہلی، ڈاکٹر مشتاق حیدر کشمیر یونیورسیٹی کشمیر، ڈاکٹر سالک جمیل براڑ دیش بھکت یونیورسیٹی پنجاب، سبھوں نے اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار کیا۔پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ واقعی یہ مسرت کا موقع ہے جو میں سہ روزہ جشن ادب اطفال میں شرکت کرکے اپنے تئیں ادب اطفال سے محبت کا اظہار کررہا ہوں۔ ہماری آمد اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنی کتابوں کی بدولت کتنی شہرت اور مقبولیت حاصل کی اور یہ کہ آج جب وہ اپنی سوویں کتاب ادبی دنیا کو دینے جارہے ہیں تو ان کے چاہنے والوں کا عالم کیا ہے۔ اس جشن میں میرے بہت سارے احباب شرکت کررہے ہیں۔ جن کو ادب اطفال سے یقینا لگاؤ اور دلچسپی ہے۔ ذاتی طور پر میں توابتداہی سے ادب اطفال کا حامی رہا ہوں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاکر ادب اطفال پر ایک مذاکرہ بھی کروں گا، جس سے اندازہ ہوگا کہ ادب اطفال کے فروغ کے لیے اور کیا کیا جانا ضروری ہے۔ پروفیسر دبیر احمد نے کہا کہ حافظؔ کرناٹکی کی خدمات اور تصنیفات و تخلیقات کی وجہ سے شکاری پور آج ریاست کرناٹک کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ ان کی خدمات سے پوری اردو دنیا واقف ہے۔ ہم ان کی خدمات کے اعتراف اور ادب اطفال کی محبت میں یہاں اکٹھا ہوئے ہیں۔ اس سہ روزہ جشن ادب اطفال کی اہمیت، وسعت، اور معنویت کا اندازہ تو دعوت نامہ دیکھ کر ہی ہوجاتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہاں سے ادب اطفال کیلئےایک اہم پیغام ساری دنیا میں جائیگا۔ ڈاکٹر سالک جمیل براڑ نے کہا کہ پنجاب میں غالباً اس تندہی سے ادب اطفال پر کام نہیں ہورہا ہے۔ ایک اکیلے انسان نے جس طرح ادب اطفال کو ادب کے مرکزی دھارے کا حصہ بنادیا ہے اس کی مثال تلاش کرنی مشکل ہے ۔ ہم ادب اطفال کے فروغ کا جذبہ اور جوش حافظؔ جی سے لیکریہاں سے رخصت ہونگے۔ پروفیسر مشتاق عالم قادری نے کہا کہ میں حافظؔ کرناٹکی کی خدمات کا بہت معترف ہوں۔ ادب اطفال کے لیے انہوں نے جو کام کیا ہے وہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی خدمات سے ہی متأثر ہو کر میں نے دہلی یونیوسیٹی میں کئی بچوں کو ادب اطفال کو اپنے ریسرچ کا موضوع بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ایک دو بچوں نے تو بہت لگن سے کام بھی کیا ہے۔ اب جبکہ ہم بہت سارے احباب یہاں جمع ہوئے ہیں تو انشاء اللہ ادب اطفال کے ہر پہلو پر گفتگو ہوگی۔ اور یونیورسیٹیوں میں ادب اطفال پر ریسرچ کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔ ڈاکٹر غلام نبی کمار نے کہا کہ مجھے یہاں آکر اور یہاں کے کاموں اور حافظؔ صاحب کے کارناموں کو دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔ انہوں نے صحرا میں جس طرح ادب اطفال کا باغ سجایا ہے وہ قابل فخر اور لائق ستائش ہے۔ کشمیر میں اردو سرکاری زبان ہے۔ مگر پوری ریاست کے بچوں کے ادیب مل کر بھی حافظؔ کرناٹکی جتنا سرمایہ فراہم نہیں کرسکتے ہیں۔ یہاں کی تو درو دیوار بھی اردو بولتی ہے۔ بچے اور بچیاں شاعری کرتی ہیں۔ شاعری کے فنی رموز بیان کرتی ہیں۔ ہم سبھی لوگوں کو جوڑنے اور اکٹھا کرنے کا کام ڈاکٹر حافظؔ صاحب کی ادبی خدمات نے کیا ہے۔ جو ایک تاریخی واقعہ ہے۔