داونگیرے:۔ ملت تعلیمی ادارہ جات میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر ادارے کے بانی و اعزازی سکریٹری سید سیف اُللہ کے ہاتھوں پرچم کشائی کی گئی ،طلباء و طالبات کے ذریعہ ثقافتی پروگرام پیش کئے گئے ۔جلسے کاآغازنویں جماعت کی طالبہ غوثیہ بانوکے ذریعہ تلاؤتِ کلامِ پاک ،نوین جماعت کی طالبہ خدیجتہ الکبرہ نے حمدِ باری تعالیٰ ، نوین جماعت کی طالبہ یاسمین بانو کے ذریعہ نعتِ رسول پیش کئے جانےکے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید سیف اُللہ نے کہا کہ اس دور میں اگر تعلیم سے دوری اختیار کی گئی تو اپنے وجود کو باقی رکھنے میں مشکل ہونے کے قوی امکانات ہونگے ،موجودہ دور جو ہر محاذ پر مقابلہ جاتی دور ہے تعلیم کے بغیر اس مقابلہ جاتی دور میں اپنی پہچان باقی رکھنا ایک چلینج سے کم نہیں اور تعلیم یافتہ افرادمیں ہر چلینج سے نبر آزمائی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے،ماضی قریب سے قوم میں ایک تعلیمی انقلاب ضرور دیکھنے میں آرہا ہے مگر وہ ناکافی ہوگا ،پرائمری سطح پر تو کچھ حد تک دُرست ہے مگر چلتے چلتے ہائی اسکول سطح پر کچھ کٹ جاتے ہیں اور ہائی اسکول سطح کے بعد پی یو اوراعلیٰ تعلیم میں تو قوم بالکل پیچھے ہی دیکھائی دیتی ہے،ایک دور تھا جب تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم تھے ایسے میں بھی بہت ساری تکلیفوں کو برداشت کرتے ہوئے تعلیم حاصل کی جاتی تھی مگر آج تعلیم حاصل کرنے والوں کو بہت ساری سہولیات حکومتوں کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے بھی موجود ہیں،مذہب اسلام میں علم کی بڑی اہمیت بتائی گئی ہے،علم کے بغیر انسان کو اپنے اندر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں دشواریوروں کا سامنا کرنا پرتا ہے،علم ہو تو انسان ہر محاذ پر کامیابی حاصل کرلیتاہے،کوئی بھی ملک اپنے عوام کو علم سے دور رکھ کر ترقی کی اُس منزل تک نہیں پہنچ سکتا اور نا ہی کوئی قوم علم کے بغیر ترقی کے عروج تک پہنچ سکتی ہے،علم ہر لحاذ سے ضروری ہے بچوں میں اپنے والدین کی محنتوں کا پھل دینے کا جذبہ ہونا چاہیئے ،والدین کی محنتوں کا شعور بھی علم ہی سے آتا ہے،ایسے میں بچوں کو چاہیئے کہ اِس معاملے میں چلینج کو قبول کرتے ہوئےوالدین قوم اوراساتذہ کا نام روشن کرنے کی اپنےاندر ہمت اور لگن سے تعلیم حاصل کرنے کی سمت توجہ دینے کی ضروروت ہے،کسی بھی ملک کو چلانے کے لئے ایک آئین کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے ملک کا آئین ایک جمہوری آئین ہے اِس آئین میں ملک میں بسنے والے سبھی شہریوں کے یکسان حقوق رکھے گئے ہیں ،یہ بات سمجھنے بھی علم ضروری ہے،ملک میں اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے بھی دستور سے واقفیت ہونی چاہیئے اور وہ علم سے ہی آتی ہے،نجی تعلیمی اداروں کااکثر خدمت کے جذبہ کے تحت ہی قیام ہوتا ہے،اساتذہ بھی پوری لگن سے طلباء کو تعلیم فراہم کرتے ہیں مزید اساتذہ کی ایک اور ذمہ داری بنتی ہے وہ ہے بچوں میں اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دین، اُس کے لئے والدین کی توجہ بھی ضروری ہوتی ہے،بچے اگر بااخلاق ہونگے تو خود بہ خود بری عادتوں بری صحبتوں سےگٹکا اور موبائل فون کے غلط استعمال وغیرہ سے بچین گے،تعلیم دلوانے کی خاطر والدین کو درپیش مسائل کا علم بھی بچوں میں ہونا ضروری ہے ورنہ تعلیم کے نام پر دور دراز کے علاقوں میں رہتے ہوئے والدین بچوں کی تعلیم کے لئے جو صعوبتیں برداشت کرتےہیں ،بچوں میں یہ احساس اور شعور ہونا چاہیئے کہ والدین کن مراحل سے گذر کر تعلیم دلوارہے ہیں،علم کے ساتھ ساتھ اخلا ق اگر پیدا نا ہوئے تو ،علم حاصل کرنے کے بعد بھی جہالت باقی ہی رہتی ہے جو ان پڑھ جاہل سے زیادہ ملک و ملت والدین اورمعاشرے کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے،اس موقع پرادراے کے تمام طلبا و طالبات ،صدر ادارہء ھذاءانور صاحب ،ناظم ِ ادارہ سید علی ،نائب سکریٹری سید خالد احمد ،اساتذہ میں ڈاکٹر ذاکر حُسین فرسٹ گریڈ کالیج پرنسپل خوشتری بیگم،نائب پرنسپل ڈاکٹر ذولقرنین،ذاکر حُسین ،ڈاکٹرسید عبدالقادر جیلانی،فضل الرحمن ،فزیکل ڈائرکٹر شکیل احمد ،ضمیر خان ،عبدالجبار ،پرائمری اسکول میر مدرس نبی صاحب کے علاوہ نا ٹیچنگ عملہ وغیرہ شریک رہا۔
