بھٹکل:۔ بھٹکل میں 3 فروری سے جاری ایک ہفتے کا بچوں کا کتاب میلہ نہ صرف بھٹکل بلکہ اطراف بھٹکل کے اُردو داں طبقہ کے لئے بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ بچوں کو موبائل کی دُنیا سے نکال کر کتابوں کی دُنیا کی سیر کرانے کے جس مقصد کو لے کر ادارہ ادب اطفال نے کتابوں کا یہ میلہ سجایا ہے اور بچے جس جوش و جذبہ کے ساتھ میلہ میں شریک ہورہے ہیں، اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔ آج پیر کو کتاب میلہ کے چوتھے دن بھی بچوں سمیت خواتین کی کثیر تعداد نظر آئی ، والدین اور سرپرستوں کی بھی خواہش ہے کہ بچے کسی طرح موبائل کی دنیا سے باہر نکل آئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اورذمہ داران بچوں کے لئے منعقدہ کتاب میلہ کو لے کر ادارہ ادب اطفال کے ذمہ داران کی ستائش کررہے ہیں اور ان کے اس قدم کو مستحسن نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔بتاتے چلیں کہ ادارہ ادب اطفال کے زیراہتمام کتاب میلہ کا افتتاح جمعہ 3 فروری کو ہوا تھا جس کا افتتاح کرتے ہوئے دار المصنفین اعظم گڑھ سے شائع ہونے والا علم و تحقیق کا معتبر رسالہ ماہنامہ معارف کے ایڈیٹر مولانا عمیر الصدیق دریابادی ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قران مجید جو ساری دنیا کے لئے اور قیامت تک کے لئے ایک ہدایت نامہ ہے اُس کا سب سے بڑا امتیاز اور تعارف پہلے ہی لفظ میں الکتاب سے کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک کے لئے ہم کو کتاب سے فراغ ممکن نہیں، لیکن ایک ایسے دور میں جب کتابوں کا تعلق سب سے ٹوٹا جارہا ہے، جن کی پہچان کتابوں کی وجہ سے تھی، اُن کے ہاتھوں سے کتابیں چھوٹ چکی ہیں، بھٹکل میں بچوں کا کتاب میلہ کا انعقاد بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ کتاب کا سرمایہ قیمتی سے قیمتی تب ہوگا جب ہماری نئی نسل کے لئے کتابیں مہیا ہوں گی، لیکن آج کتابیں غائب ہوگئی ہیں اور آج ہم اس کا ماتم کررہے ہیں۔ لیکن بھٹکل کے نوجوانوں نے بچوں کا کتابی میلہ منعقد کرکے زبردست انقلابی کام کیا ہے جس کی ستائش ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ تاریخی قدم ہے جس کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اور پورے ہندوستان میں اس کی بازگشت سنائی دینی چاہئے مزید کہا کہ آج سب سے بڑا مسئلہ ہندوستان کی تہذیب، ثقافت اور ہندوستان کے امن و سلامتی کو قائم رکھنا ہے اور وہ فریضہ بھٹکل کے لوگ انجام دے رہے ہیں۔مولانا نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ جن کی مادری زبان نوائطی ہے، علاقائی زبان کنڑا ہے جن کو اُردو سے کوئی واسطہ نہیں ہے لیکن آج ہندوستان کی بستیوں میں بھٹکل ایسی بستی ہے جہاں سب سے زیادہ اُردو کے بورڈ دکھائی دیتے ہیں، اُردو کے نام سے سڑکوں کے نام ہیں اور اکثر مکانوں کے باہر اُردو میں نام کنندہ ہیں۔مولانا دریابادی نے کہا کہ کتابوں کے میلے بہت ہوتے ہیں، لیکن بچوں کا کتابی میلہ، بچوں کے لئے کتابوں کو لکھنا پھر بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کو جمع کرنا اور بچوں کے لئے پورے ہندوستان کے جتنے بھی پبلیشرس ہیں، اُن کو اس میلہ میں شریک کرانا یہ آسان مرحلہ نہیں ہے، انہوں نے کتاب میلہ کے ذمہ داران کی بھرپور ستائش کی اور ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی تلقین کی۔ کتاب میلہ میں بچوں کے لئے بہت سارے گیمس بھی رکھے گئے ہیں جہاں شریک ہونے کے لئے کم ازکم دوسو روپیوں کی کتابوں کی خریداری ضروری ہے۔ دوسو روپیوں کی کتابوں کی خریداری پر ایک ٹوکن دیا جارہا ہے جس کے ذریعے بچے کھیل کود میں شریک ہوسکتے ہیں، اسی طرح رات بعد نماز عشاء بچوں کے لئے مختلف قسم کے مقابلے بھی رکھے گئے ہیں جس کے ذریعے عوام الناس لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔سنیچر شب ٹیلنٹ شو،اتوار کی شب کو کوئیزمقابلے اور آج پیر کو کراٹے اور تمثیلی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا ، منگل کو تاریخ اسلام پر ڈرامے، بدھ کو کاروان اطفال کے ڈرامے اور آخری دن 9 فروری کو کہکشاں کی شام اور انعامی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔ کتاب میلہ کے دوران ہر روزبعد عصر خواتین کے لئے نشستیں بھی رکھی جارہی ہیں ۔ ان سب مقابلوں کے چلتے بچوں کے ساتھ بڑے اور خواتین بھی کثیر تعداد میں کتاب میلہ میں شریک ہورہی ہیں
