شیموگہ : کرناٹکا اردو ٹیچرس اسوسیشن شیموگہ ضلع کی شاخ یو ں تو رہ کر بھی نہ کہ برابر ہے اور اس کمیٹی نے غائبانہ طورپر اپنے وجود کا مظاہر ہ کررہی ہے۔ ضلع کی اس کمیٹی کی میعاد ختم ہوئے قریباََ تین سال مکمل ہوچکے ہیں مگر اب تک اس کمیٹی کی سر از نو تشکیل کے سلسلے میں کوئی کام نہیں ہواہے ، اس وقت سوائے شیموگہ تعلقہ کی کمیٹی کے علاوہ کہیں بھی کراٹا کی تشکیل نہیں ہوئی ہے جبکہ بھدراوتی میں کراٹا کسی دور میں پورے نظم کے ساتھ کام کررہی تھی اب وہاں بھی حالات درہم برہم ہوچکے ہیں ۔ دریں اثناء بھدراوتی کراٹا کمیٹی میں اردو ۔ کنڑا بھائی بھائی کی مثال بنی ہوئی ہے ، اردو ٹیچرس اسوسیشن میں کنڑا اساتذہ کو عہدے دیئے جانے کی وجہ سے یہاں کے اساتذہ میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ نان ویج تھالی میں ویج پکوان پروسنا کہاں تک درست ہے ، جب اسوسیشن کا نام ہی اردو ٹیچرس اسوسیشن ہے تو کنڑا ٹیچرس کا اس میں کیا کام ہے ۔ جبکہ کنڑا تنظیموں میں کبھی بھی اردو اساتذہ کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے تو اردو تنظیموں میں کیوں کنڑا ٹیچرس کو شامل کیاجارہاہے ۔ اس وقت شیموگہ ضلع کراٹا کی کمیٹی جہاں اپنا وجود کھو چکی ہے وہیں اس کمیٹی کو سر از نو تشکیل دینے اور کمیٹی کے ذریعے اردو اساتذہ کے حقوق کی بحالی اور اردو اسکولوں کی ترقی کا جذبہ رکھنے والے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سمت میں فوری طورپر پیش رفت کرتے ہوئے سرگرم اراکین پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل دیں ۔ کراٹا کے ضلعی صدر شمشیر خان اپنی غائبانہ کمیٹی کو سامنے رکھتے ہوئے نہ تو خود کچھ کام کررہے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو کام کرنے کا موقع دے رہے ہیں ۔ بھدراوتی میں اردو اساتذہ کی بڑی تعداد ہے وہاں پر بھی کراٹا کی تنظیم کو بہتر طریقے سے تشکیل دیتے ہوئے بھدراوتی تعلقہ کے اسکولوں کی فلاح وبہبودی کیلئےکام کرنا ہوگا۔ضلع کےسورب ، تیرتہلی ، شکاری پور ، ہوسناگر ، بھدراوتی اور تیرتہلی میں کراٹا تنظیم کا وجود کمزور ہے ، وہاں پر سب سے پہلے کمیٹیوں کو ضوابط کے مطابق تشکیل دیتے ہوئے ضلعی کمیٹی کی تشکیل کرنے کی ضرورت ہے ، جبکہ ایسا نہ کرتے ہوئے کسی ہوٹل یا نکڑ پر بیٹھ کر تو صدر ، میں سکریٹری کے فارمولے پر اگر ضلعی کمیٹی قائم کی جاتی ہے تو اس سے حاصل کچھ نہ ہوگا بلکہ اردو اساتذہ اور اسکولوں کو نقصان اٹھانا پڑیگا ۔ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں اس تنظیم کو مضبوط کریں ورنہ مودی – امیت شاہ جیسے لوگ اساتذہ پر حکومت کرنے آدھمکیں گے ۔
