
شیموگہ:۔شہرکی سہیادری کالج کیمپس میں موجود شعبۂ اُردو جامعہ کوویمپو میں ایم ۔اے سالِ دوم کی جانب سے ایم اے سالِ اول کے طلباء کو استقبال کرتے ہوئے استقبالیہ جلسے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جلسے کی کارروائی کا آغاز گلناز ایم اے سالِ دوم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، عائشہ صدیقہ نے نعتِ شریف پڑھی پھر رفیقہ بانو اور رفقاء نے ترانہ شعبۂ اُردو پیش کیا۔ سالِ دوم کی طالبہ عائشہ صدیقہ ڈی ۔ایس نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ نغمہ،آصفہ، عشرت، مہ تاج بانو، شبانہ اور فرقان ثاقب سالٹ اول اور منصور سالِ دوم اور عمرہ تبسم بی۔یس۔سی کی طالبہ نے شعبۂ اُردو سے متعلق اپنے تاثرات بیان کیے۔بی۔اے کے طالب علم صادق نے اپنی ترنم آواز میں اقبالؔ کی نظم سنائی۔مہمانِ خصوصی محمد علیم اُللہ شریف، لکچرر، ڈی۔آر۔یم گورنمٹ پی یو کالج ہری ہر نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خود اعتمادی ، شوق، دلچسپی اور محبت سے علم حاصل کریں۔ کتابیں معلومات کا ذریعہ ہیں ان کو رٹنے کے بجائے ہضم کرنا سیکھیں اور اپنے پسندیدہ میدان میں اپنی لیاقتیں بڑھائیں تو کامیابی ممکن ہے۔ ایک اور مہمانِ خصوصی اکنامکس کے وظیفہ یاب پروفیسر نارائن راؤ صاحب نے طلباء کو اخبار پڑھنے اور ادب کا مطالعہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مختلف زبانوں کے ادب کا موازنہ کرتے ہوئے مطالعہ کو جاری رکھیں۔ اردو ادب پڑھتے ہوئے آپ کو کسی احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔بے شمار راستے آپ کے مستقبل کے لیے روشن ہیں۔ آپ ایک زندہ زبان کے ادب کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ادب کا مضمون دیگر اختیاری مضامین کے مقابلے بہت اعلیٰ مضمون ہے یہ دوسرے مضامین کی طرح صرف ایک پہلو کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ آپ کو وہ علم عطا کرتا ہے جو عہدہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی جینا، مہذب ہونا اور ایک اچھی شخصیت بن کے ابھرنا بھی سکھاتا ہے۔ڈاکٹر محمد عارف اللہ نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے مہمانانِ خصوصی کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اور کہا کہ آپ اپنے مستقبل کو ایسے سنواریں کہ ایک اچھے عہدہ دار کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی بن جائیں۔صدارتی تقریر کرتے ہوئے پروفیسر سید ثناء اُللہ نے دونوں مہمانان کی تقاریر اور جلسے کی کارروائی کا احاطہ کرتے ہوئے طلباء کو بتایا کہ آج میرے لیے یہ بہت مسرت کا موقع ہے کہ اس جلسے میں میرے استاد اور شاگرد دونوں موجود ہیں۔ پروفیسر نارائن راؤ میرے استاد اور محمد علیم اللہ شریف میرے شاگرد ہیں۔ جس طرح سے میرے استاد نے میری رہنمائی کی اور میرے شاگرد نے ترقی کی راہیں طے کی ہیں اسی طرح آپ بھی بھی آگے بڑھیں تو اس قوم اس ملک کی فلاح ہوگی۔ عائشہ صدیقہ کے اظہار تشکر کے ساتھ جلسہ اختتام کو پہنچا۔ نظامت کے فرائض رفیقہ بانو اور گلناز نے ادا کئے۔
