اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ; سرکاری امداد کوبنیاد بنا کر غریب ومتوسط افرادکی مددکرنے سے مالدار کررہے انکار

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
شیموگہ:۔کہتے ہیں کہ اونگھنے والے اگر ٹھیلنے والامل جائے تو وہ اسی کو بنیاد بنا کر باوال کھڑا کردیتاہے۔ایسے ہی حالات اس وقت قومِ مسلم میں دیکھنے کومل رہے ہیں جو کوروناکے ان سنگین حالات میں اُمت مسلمہ کے ضرورتمندوں کی مددکوبنیادبنانے کے بجائے یہ حوالے دے رہے ہیں کہ انہیں تو حکومت کی طرف سے مفت چاول مل رہے ہیں ، چنے مل رہے ہیں،بعض لوگوں کو تو حکومت3-3 ہزار روپئے د ے رہی ہے اورکئی ایک تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آج کے دورمیں جن کےپاس بی پی ایم کارڈ ہے وہی مالدار ہیں ،انہیں سب سے زیادہ سہولیات مل رہی ہیں۔لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ لوگ صرف بہانہ بازی کررہے ہیںاور اپنی ذمہ داری سے پیچھاچھڑانے کی کوشش کررہے ہیں اورضرورتمندوں کی مددکرنے کے بجائے ایک دوسرے پر ذمہ داریوںکو تھوپنے کی کوشش ہورہی ہے۔کورونا کے لاک ڈائون میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والاطبقہ متوسط یعنی مڈل کلاس طبقہ ہے،جس کی ضرورتیں نہ زیادہ ہوتی ہیں نہ ہی کم ،باوجود اس کے اس کا سر کہیں پر نہیں ہوتاہے خم۔ان حالات میںمالدار طبقہ اپنی تجوریوں میں ہاتھ ڈالنے کے بجائے صرف مال ودولت اکٹھا کرنے میں لگاہواہے۔کوروناکے دوران ایسے کئی لوگوں کی موتیں دیکھی گئی ہیں جنہوںنے ساری عمر مال اکٹھا کرنے میں لگادی تھی اور جب وہ مرے تو ان کی میت بھی لاوارثوں کی طرح اٹھائی گئی۔جن پیسوں کی بنیاد پر وہ تکبر وفخر کیاکرتے تھے،اُن پیسوں کے ذریعے سے وہ اسپتالوں میں بیڈ تک حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور دوائی بھی رشوت کی بنیاد پر لینا پڑاہے۔اسلام میں یہ ماناجاتاہے کہ جو لوگ دوسروں کیلئے بھلا کرتے ہیں وہ بھلائیاں انہیں دوسرے طریقے سے واپس لوٹیں گی،مگر یہاں بھلائی کرنے کے بجائے تجوری بھرنے پر مامور ہوچکے ہیں۔درجنوں ایکر زمین کے مالکان،بڑے بڑے عہدیداران اس وائرس کے سامنے لاچار ہوکر دم توڑ چکے ہیں تو ایسے میں اس وقت مال ودولت کااکٹھاکرنے کے بجائے کچھ ضرورتمندوں کی مددکیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے۔جان ہے تو جہاں ہے،جب دنیا میں لوگ ہی باقی نہیں رہیں گے تو رئیل ایسٹیٹ کی مارکیٹ کیسے بڑھے گی،سونے ولوہے کی دکانوں میں کون خریداری کریگا اور مال ودولت کے تعلق سے کون مالداروں کی واہ واہی کریگا۔یہ وقت خدمت کرنے کا ہے اور بہترین موقع ہے تو اس موقع پر خدمت کریں تو بہت بڑی بات ہوگی۔