از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
آزادی کے بعد بھارت میں مسلمانوں کی تعلیمی شرح میں گراوٹ دیکھی گئی،مسلسل کوششوں کے بعدمسلمانوں میں جب تعلیم کی شرح میں اضافہ دیکھاگیاتو اُس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی،جب نوکریاں خالی تھیں تو تعلیم یافتہ نوجوان نہیں مل رہے تھے اور جب تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نسل تیارہوگئی تو نوکریوں کاسلسلہ ختم ہوچکاہے،اب بے روزگار ی عروج پر ہے، ہر گلی کوچے میں دس بارہ گریجوئٹ بیکار نظر آتے ہیں،ہر محلے میں انجینئرنگ اور پی جی کے طلباء کی بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے۔مگر انہیں نوکریاں دینے والاکوئی نہیں ہے،مگر حقیقت یہ ہے کہ نوکریاں دینے والوں سے زیادہ نہ لینے والے نوجوان ہیں،کیونکہ ہر نوجوان کو نوکری کی خواہش تو ہے لیکن ہر کوئی لاکھوں میں تنخواہ لینے کی سوچ رہاہے۔نوجوانوں میں فکر کم ذوق و شوق زیادہ ہوچلاہے اور جوکوئی اچھی تنخواہوں پر کام کررہاہے تو وہ حالات کو بنیاد بنا کر اپنی طرف سے نئی تاریخ لکھنے کے بجائے زندگی کو عیش وعشرت اور عیاشیوں میں گذارنا چاہ رہاہے۔اُمت مسلمہ کی بدحالی کا یہ ستم بھی کم نہیں کہ نوجوان نسل بھلے ہی بے روزگار رہے جائیں لیکن معمولی تنخواہوں پرکام کرنا انہیں منظورنہیں،بھلے قرض اور پریشانیوں کے دنوںسے گذرنا پڑے مگر چھوٹے سطح کے کاروبارکرنے میں انہیں شرم محسوس ہوتی ہے۔زندگی کو سوائے وقت گذاری کے انہوں نے اور کچھ نہیں سمجھا اور ہر نوجوان یہی کہہ رہاہے کہ بس ہم تو فی الحال ٹائم پاس کررہے ہیں،نوکری کے بارے میں ابھی نہیں سوچا۔کئی نوجوانوں کو عمرکے آخری پڑھائو میں دیکھا گیاہے،مگر وہ اب بھی اپنے آپ کو کمسن سمجھتے ہیں۔مسلمانوں کی تاریخ کامشاہدہ کیاجائے تومسلم نوجوانوں نے حکومتیں قائم کی تھیں،مسلم نوجوانوں نے دشمنوں کو زیر کیاتھا،مسلم نوجوانوں نے تحقیق اور ترقی کے میدان میں اپنا لواہا منوایاتھا،مسلم نوجوانوں نے تجارت کے میدان میں کامیابی حاصل کی تھی،مسلم نوجوانوں نے ہر علم میں اپنے آپ کو ثابت رکھاتھا۔مگر آج کی نسل اس قدر لاپرواہ وناکارہ ہوچکی ہے کہ وہ سوائے چاپلوسی وقت گزاری کے اور کچھ نہیں کرنا چاہ رہی ہے۔علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں کہاہے کہ
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح وشام پیدا کر
مراطریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
نوجوان نسلوں کو یہی ایک شعر کامیابی کی بلندیوں کو چھونے کیلئے کافی ہے۔آج ہر نوجوان اچھاانسان یا کامیاب انسان بننے کے بجائےصرف اور صرف مالدار انسان بننے کی چاہ لئے گھوم رہے ہیں اور ہر کوئی یہ چاہ رہاہے کہ اس کے کام کی ابتداء بڑے پیمانے پرہو اور وہ ہرگز بھی چھوٹے پیمانے سےاپنی زندگی کاآغاز کرنا نہیں چاہتا۔اس وقت بڑے کی تلاش میں گھومنے کے بجائے چھوٹے پیمانے پر ہی کام کی شروعات کریں،کیونکہ کھیت میں پھل حاصل کرنے کیلئے بیج بویاجاتاہے نہ کہ تناور درخت کو لگایاجاتاہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کی رہنمائی اور رہبری کابھی ایک خلاء موجودہے ،اس خلاء کو کم کرنے اور نوجوانوں کی رہبری کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
